خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 413

خطبات محمود ۱۳ سال ۱۹۲۸ء زمین پر جالی دار چیز پر لیٹا ہو اور اس کے نقش جسم پر پڑ جائیں تو یہ عبودیت کے مفہوم میں آجائے گا۔پس عبودیت کے معنی دوسرے کے نقش اپنے اوپر لے لینا یعنی اس کی مرضی کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لینا ہیں۔غلام کا بھی یہی مفہوم ہوتا ہے اس کی اپنی مرضی جاتی رہتی ہے اور وہ اپنے آقا کی مرضی اختیار کر لیتا ہے۔پس خدا تعالیٰ کا عبد بننے کے لئے یہی ضروری نہیں کہ نماز پڑھے، روزے رکھے۔حج کرے ، زکوۃ دے یہ سب باتیں ہماری اپنی ذات سے تعلق رکھتی ہیں۔ان میں سے ایک بھی کام ایسا نہیں جو الوہیت سے تعلق رکھے۔زکوٰۃ ایک رنگ میں تعلق رکھتی ہے مگر ز کوۃ کا مفہوم بندوں کے متعلق یہ ہے کہ اپنے مال کو پاک کرنے کے لئے دی جاتی ہے مگر خدا تعالیٰ کسی کو جو کچھ دیتا ہے وہ تو اس غرض سے نہیں دیتا پس یہ سب باتیں انسان کی اپنی ذات سے تعلق رکھتی ہیں۔اصل عبادت یہ ہے کہ خدا تعالی کی صفات کو انسان اپنے اعمال پر حاوی کر لے۔خدا تعالیٰ انسانوں پر رحم کرتا ہے انسان بھی رحم کرے اسی طرح خدا تعالی کی صفات کے ایسے نمونے پیش کرے کہ دنیا کے لئے لیڈر بن سکے۔پس عبد کامل وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی الوہیت والی صفات کو اخذ کرے۔جس طرح خدا تعالیٰ رب رحمن رحیم ہے۔اسی طرح انسان بھی بنے بلکہ انسان کو چاہئے رب العالمین کی صفت اختیار کرے۔یہی نہیں کہ اپنے رشتہ داروں اور تعلق رکھنے والوں سے سلوک کرے بلکہ سب مخلوق سے نیک سلوک کرے۔ایک دہر یہ ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کی خدائی کا انکار کرتا ہے بلکہ گالیاں دیتا ہے مگر باوجود اس کے خدا تعالیٰ کی ہر چیز سے فائدہ اٹھاتا ہے۔خدا تعالیٰ اپنی رحمت اور شفقت اس سے نہیں ہٹا لیتا۔پس جس طرح خدا تعالیٰ کا سلوک عام ہے اسی طرح انسان بھی عام سلوک کرے۔اسی طرح خدا تعالی منان ہے متن اور احسان کرتا ہے اسی طرح انسان بھی کرے۔خدا تعالی غفار ہے لوگوں کے گناہوں اور عیبوں سے چشم پوشی کرتا ہے انسان بھی کرے۔پس اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں جس عبودیت کی طرف اشارہ ہے وہ نماز سے یا روزہ سے ظاہر نہیں ہوتی۔اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ میں نماز، روزہ، حج، زکوۃ اور دوسرے شرعی اعمال کو عبادت سے خارج کرتا ہوں بلکہ یہ ہے کہ صرف یہی اعمال عبادت نہیں بلکہ ان کے علاوہ اور بھی اعمال نہیں جو انسان کے اخلاق، اس کے حسن سلوک، اس کے رحم اور اس کی چشم پوشی سے تعلق رکھتے ہیں۔یہی مطلب ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا۔خدا تعالیٰ اس میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ خدائی صفات کو اپنے اندر جذب کرو تب تم کامل طور پر ايَّاكَ نَعْبُدُ کہنے کے مستحق ٹھرو گے۔