خطبات محمود (جلد 11) — Page 415
خطبات محمود ۴۱۵ سال ۶۱۹۲۸ نہ ہوں گی تب تک وہ ترقی نہ کر سکیں گے۔خدا تعالٰی نے بتایا ہے جب تم اپنے آپ کو اپنی قوم کے لئے اپنے ملک کے لئے بلکہ ساری دنیا کے لئے مفید بناؤ گے تب جو مانگو گے وہ دوں گا۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ایک طرف تو خدا تعالٰی فرماتا ہے۔اجیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ۔جب تم مجھے پکارتے ہو تو میں تمہاری پکار کو سنتا ہوں اور دوسری طرف مسلمان مسجدوں میں کھڑے ہو کر اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہتے ہیں مگر خداتعالی ان کی مدد نہیں کرتا اور انہیں ذلت اور نکبت سے نہیں نکالتا۔اگر خدا تعالی پر ایمان ہو تو یہی کہنا پڑے گا کہ خدا تعالی کا وعدہ تو سچا ہے کہ جب مسلمان یہ کہتے ہیں کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین تو کچی عبادت نہیں کر رہے ہوتے۔اچھا ملازم وہ ہوتا ہے جو سارا دن آقا کے کام میں لگا رہے۔۔مسلمان دیکھیں کیا وہ خدا تعالی کے کام میں لگے رہتے ہیں یا نہیں۔اگر نہیں تو خدا کے عبد نہیں کہلا سکتے۔مسلمانوں کو چاہئے کہ دنیا کی بھلائی کے کاموں میں ترقی کریں مگر عام طور پر مسلمان ایسا نہیں کرتے۔ایسے کام شاذو نادر ہی کسی کے ملیں گے۔بعض لوگ انفرادی ترقی کرتے ہیں مگر اس سے قوم ترقی نہیں کر سکتی جیسے مسٹر بوس ترقی کر رہے ہیں مگر یہ ان کی اپنی ترقی ہے ان کی قوم کی ترقی نہیں۔باقی ہندو قوم بھی مسلمانوں کے مقابلہ میں ترقی کر رہی ہے لیکن یورپ کی قوموں کے مقابلہ میں ان کی ترقی بھی کچھ نہیں۔یورپ کے لوگوں کے مد نظر قومی ترقی ہوتی ہے۔مسلمانوں میں سے بھی جب تک اکثر افراد ایسے نہ نکلیں گے جو اپنے لئے زندگی بسر نہ کریں بلکہ دوسروں کے لئے کریں اس وقت تک قومی ترقی کے لئے خدا تعالیٰ کی نصرت حاصل نہ ہو گی۔اور جب تک یہ نصرت حاصل نہ ہوگی مسلمانوں کی قوم بھی ترقی نہ کر سکے گی۔ہمیں اس مقصد کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے جس کے لئے خدا تعالیٰ نے دنیا میں ہمیں بھیجا۔غلام کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ بہتر سے بہتر کام کرے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کو انعام بھی نہیں ملتا۔ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ساری قوم کی ترقی کا سوال کبھی ہماری آنکھوں سے اوجھل نہ ہو۔اور اپنے وقت میں اپنی قوم اور اپنے ملک کی جو حالت پائیں اس سے بہتر حالت میں اسے چھوڑیں۔پھر یہی نہیں کہ اپنی قوم اور اپنے ملک کو فائدہ پہنچانا ہے بلکہ ساری دنیا کے لئے بہتر اور مفید بنتا ہے۔جب ہمارا یہ مقصد ہو تو پھر دیکھو ہمارے حوصلے اور ہماری ہمتیں کس قدر بلند ہوتی ہیں۔جس قدر مقصد اور مدعا بلند و بالا ہو اسی قدر زیادہ ہمت اور طاقت پیدا ہوتی ہے۔انسان کو خدا تعالٰی نے اندازہ کرنے کی ایک خاص حس دی ہے۔ایک ہاتھ جو سوئی اٹھا سکتا ہے وہ چار پانچ میر کا بوجھ بھی اسی آسانی سے اٹھا لے گا کیونکہ