خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 396

خطبات محمود ۳۹۶ سال ۱۹۲۸ء ہو گا۔ساتھ ہی میں ایک اور قوم کا بھی ذکر کر دینا چاہتا ہوں جو ہماری طرف منسوب بھی ہوتی ہے اور ہم سے علیحدہ بھی ہے اور وہ غیر مبالعین ہیں۔کچھ عرصہ ہوا ان سے معاہدہ ہوا تھا کہ ایک دوسرے پر ذاتی حملے نہیں کریں گے مگر افسوس ہے کہ سوائے دو تین ماہ کے انہوں نے اس پر عمل نہ کیا۔طریق یہ ہے کہ اگر کوئی معاہدہ مدت معینہ کے لئے ہو اور اسے قائم نہ رکھنا ہو تو اعلان کر دیا جائے کہ معاہدہ قائم نہیں ہے۔مگر نہ انہوں نے اعلان کیا اور نہ معاہدہ کا احترام کیا اور خفیہ اور اعلانیہ اس کی خلاف ورزی کرتے رہے حالانکہ ہم نے ان کے ساتھ ہمیشہ ایسا معاملہ کیا ہے کہ اسے دیکھ کر انہیں اپنی روش پر ندامت ہونی چاہئے۔ان مستریوں کے معاملہ میں ان کا کار کن جو تحریر کا کام کرتا ہے اور پراپیگنڈا کرتا رہتا ہے اس کے متعلق عراق سے خط آیا کہ مستریوں کے شائع کردہ اشتہارات وہاں اس کے ذریعہ پہنچائے گئے ان کو وہاں بھیجنے والا وہ شخص تھا۔یہ وہ شخص ہے اس کا نام تو میں اب بھی نہیں لیتا اس کا لڑکا گھر سے روپیہ لے کر نکل گیا اور ہماری جماعت کے ایک آدمی کے پاس پہنچا اور ان سے کہا کہ میں ان لوگوں سے بیزار ہوں مجھے قادیان بھیج دو۔مگر انہوں نے اسے سمجھایا اور کہا یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے ادھر مجھے لکھا تو میں نے بھی انہیں یہی کہا کہ اسے سمجھا ئیں۔وہ ماں باپ کے پاس ہی رہے میں نے یہ بھی کہا کہ اس کے باپ کو اطلاع دی جائے۔معلوم نہیں ہماری نصیحت کارگر ہوئی یا نہیں اور وہ ماں باپ کے پاس گیا یا نہیں مگر ہمارا یہ رویہ ہے۔اس کے مقابلہ میں جو رویہ ان کی طرف سے اختیار کیا گیا وہ ظاہر ہے ہماری جماعت کے بہت سے دوستوں نے چاہا کہ ان کو جواب میں لکھنے کی اجازت دی جائے اور ان کا جواب کا کوئی مشکل نہیں ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ دو ہفتہ کے اندر اندر ان کی زبانیں بند کی جا سکتی ہیں لیکن وہ طریق اختیار کرنا جسے غیر شریفانہ کہا جائے ہم پسند نہیں کرتے۔مگر وہ یہ نہیں سوچتے کہ شیشہ کے مکان میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر پھینکنے اچھے نہیں ہوتے کیونکہ پتھر کے مکان کو تو پتھر سے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا مگر شیشے کے مکان پر پتھر پڑ گیا تو وہ چور ہو جائے گا۔ورنہ اگر اس طریق کو میں جائز سمجھتا تو کئی ایک دوستوں نے واقعات پیش کئے اور کہا اجازت دی جائے کہ ان سے ان کے متعلق پوچھیں مگر میں نے اجازت نہ دی۔تو ان کے جواب ہو سکتے تھے اور ایسے ہو سکتے تھے کہ کچھ حصہ تو اپنی عزت کے بچانے کے لئے اور کچھ حصہ ان کے تعلقات کی وجہ سے خاموش کیا جا سکتا تھا مگر ہم خدا کی شریعت کے پابند ہیں اور اس کے احکام کے دو معنی نہیں لکھنا