خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 395

خطبات محمود ۳۹۵ سال ۱۹۲۸ لیں کیونکہ میں اس بات کا قائل ہوں کہ گالی وہ ہوتی ہے جو آسمان سے آتی ہے زمین سے جو بات کوئی کہتا ہو وہ دعا ہو کر لگتی ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ کوئی شخص حضرت ابو بکر کو برا بھلا کہہ رہا تھا اور آپ خاموش تھے۔آخر جب وہ بھی جواب میں بولنے لگے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم خاموش تھے تو تمہاری جگہ فرشتے جواب دے رہے تھے اور اب جو تم بولے تو فرشتے خاموش ہو گئے کہ اب اس نے اپنا کام خود شروع کر دیا ہے ہمیں ضرورت نہیں۔لے تو میں اپنی ذات پر اعتراضات کرنے سے کسی کو نہیں روکتا کہ کوئی سمجھے اپنے لئے کہہ رہا ہے۔میری تو وہی حالت ہے جو اس عورت کی تھی جس کا زیور چور لے گیا تھا اور اس نے اسے کہا تھا تمہارے پاس تو اب بھی رہی لنگوئی کی لنگوئی ہے اور میرے پاس پھر یہ سونے کے کڑے ہیں۔خدا کے فضل سے مجھے ان باتوں سے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ان چند ماہ میں الزامات کی وجہ سے ایک بھی آدمی جماعت سے علیحدہ نہیں ہوا۔اس کے مقابلہ میں کئی ہزار آدمی میری بیعت میں داخل ہوئے ہیں اور کئی ایک غیر احمدی معززین نے پیغامات بھیجے ہیں اور لکھا ہے کہ گو ہمارا مذہبی لحاظ سے آپ سے کوئی تعلق نہیں ہے مگر ہم اس شرمناک رویہ کو نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اسے شرافت کے خلاف قرار دیتے ہیں۔تو اس سے میں کسی کو نہیں روکتا بے شک میری ذات پر وہ دل کھول کر حملے کریں گو شریعت کی رو سے جائز ہے کہ میں روکوں مگر اس لئے کہ اسے میری نفسانیت نہ سمجھا جائے میں نہیں روکتا۔وہ میری ذات کے خلاف لکھیں اور جس قدر چاہیں لکھیں۔میں صرف یہ کہتا ہوں کہ اسلام کی ترقی کے لئے جو تجاویز پیش کی جائیں ان کے خلاف نہ لکھیں اور متحد ہو کر کام کریں۔میں نے تو کسی کی ذات کے خلاف نہ پہلے لکھا اور نہ اب لکھوں گا مگر ان کو اجازت ہے کہ لکھتے جائیں۔اگر ان باتوں سے مجھے کوئی نقصان پہنچ جائے تو سمجھ لیں کہ میں جھوٹا ہوں اور اگر نقصان کی بجائے فائدہ ہو تو پھر مجھے ان کی ایسی باتوں پر چڑنے کی کیا ضرورت ہے۔وہ تو میری ترقیات کے لئے کھاو کا کام دے رہے ہیں۔پس میں پھر یہ واضح کر دیتا ہوں کہ میں اپنے اوپر ذاتی حملوں سے روکتا نہیں۔ذاتی حملے کرنے کے لئے ان کو کھلی اجازت ہے۔میں صرف اس سے چاہتا ہوں کہ رک جائیں جہاں اسلامی فوائد کا سوال ہو اور ایسا رویہ اختیار نہ کریں جس سے دشمن کو یہ خیال ہو کہ مسلمان آپس میں اس قدر پھٹے ہوئے ہیں کہ وہ خدا اور رسول کی خاطر بھی کسی بات پر اکٹھے نہیں ہو سکتے انہیں جس طرح چاہو مار لو یہ خطرناک رویہ