خطبات محمود (جلد 11) — Page 344
خطبات محمود ۳۴۴ سال ۶۱۹۲۸ ابھی پرسوں ترسوں اطلاع ملی کہ آپ یکم رمضان کو فوت ہو گئے دس دن بیمار رہے ہیں پہلے ہلکا ہلکا بخار رہا آخری تین دن بہت تیز بخار ہو گیا۔جب ڈاکٹر کو بلایا تو اس نے کہا ہسپتال لے چلو۔دوسرے دن وہاں لے جانا تھا کہ فوت ہو گئے۔ان کی تیمارداری کرنے والے رات بھر جاگتے رہے۔سحری کے وقت آپ نے ایک دو دفعہ پانی مانگا۔تیمار دار صبح کی نماز کے بعد سو گئے اور بارہ بجے کے قریب ان کی آنکھ کھلی تو آپ فوت ہو چکے تھے۔جس طرح قسطنطنیہ کی خوش قسمتی تھی کہ وہاں حضرت ایوبے انصاری دفن ہوئے اس وقت قسطنطنیہ عیسائیوں کے ماتحت تھا پھر خداتعالی نے اس زمین کو دفن ہونے والے کی برکت سے ہدایت دی اور صدیوں تک وہ مسلمانوں کا بہت مضبوط قلعہ رہا ہے اور اب بھی وہاں مسلمانوں کی حکومت ہے۔گو ان میں بہت تغیر ہو چکا ہے ان میں اسلامی غیرت نہیں رہی اور اسلام کی حفاظت کے لئے وہ کچھ نہیں کرتے مگر وہ مسلمان کہلاتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اسی طرح یہ ایران کے لئے مبارک بات ہے کہ وہاں خدا تعالٰی نے ایسے شخص کو وفات دی جسے زندگی میں دیکھنے والے ولی اللہ کہتے تھے اور جسے مرنے پر شہادت نصیب ہوئی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ سے ان کا بڑا تعلق تھا۔عام طور پر بزرگوں کی ولایت ان کی زندگی کے بعد تعلیم کی جاتی ہے مگر آپ ان لوگوں میں سے تھے جن کو دیکھنے والے ان کی زندگی میں ہی ولی اللہ سمجھتے ہیں۔آپ نہایت ہی متوکل اور نیک انسان تھے۔آپ اس قدر سید ھے اور نرم مزاج تھے کہ گویا سخت کلامی آتی ہی نہیں تھی مگر باوجود اس کے دین کے معاملہ میں بہت غیرت رکھتے تھے۔اور متوکل ایسے تھے کہ انہوں نے کہا تھا میں اپنے خرچ پر تبلیغ کے لئے جاؤں گا مگر اس وقت ان کو بھیجا نہ گیا اور جب بھیجا گیا تو ان کے پاس کچھ نہ تھا مگر انہوں نے نہ مجھے بتایا نہ کسی اور کو کہ میرے پاس کچھ نہیں۔میں جمعہ کی نماز کے بعد ان کا جنازہ پڑھاؤں گا اور سب دوستوں سے امید رکھتا ہوں کہ خصوصیت سے ان کے لئے دعا کریں گے کہ اللہ تعالی ان کی روح کو اعلیٰ مقام پر پہنچائے اور ان کی وفات جو کہ ایک بہت بڑی قربانی ہے وہ ضائع نہ جائے۔ایک نا سمجھ اور نادان انسان کے گا کہ وہ تمہارا کیا لگتا تھا مگر یا تو وہ جن کو روحانی رشتے اور روحانی قرب حاصل ہوتا ہے وہ جانتے ہیں کہ جسمانی تعلقات سے یہ بہت مضبوط ہوتا ہے اور روحانی رشتے جسمانی رشتوں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔زندہ قومیں جانتی ہیں کہ قوم کی خاطر مرنے والوں کی کیا قدر کرنی