خطبات محمود (جلد 11) — Page 345
سال ۱۹۲۸ء خطبات محمود ۳۲۵ ١٠ چاہئے۔یہ بالکل کچی حقیقت ہے کہ مردوں کی قدر کرنا زندوں کو اور طاقتور بنا دیتا ہے۔پس ہمارا قومی فرض ہے کہ ان کا اعزاز اور احترام کریں جو دین کی خدمت کرتے ہوئے فوت ہوں۔اور ایسا اعزاز کریں کہ ہماری نسلیں محسوس کریں کہ دین کی خدمت کرتے ہوئے مرنا بہت بڑی عزت ہے۔جب تک یہ احساس پیدا نہ ہو کہ جو دین کی خدمت کرتے ہوئے مرتے ہیں وہ بہت بڑے محسن ہیں کوئی دین اور کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔پس قوم میں ترقی اور بیداری پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ دین کی خاطر جو مریں ان کے نام زندہ رکھے جائیں۔دیکھو قرآن کریم نے کتنے چھوٹے سے فقرہ میں یہ بات بیان کر دی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يَقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ اَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاء وَالكِنْ لَا تَشْعُرُونَ (البقره ۱۵۵) کہ جو اللہ کے رستے میں مرتے ہیں ان کو مُردہ مت کہو وہ زندہ ہیں۔گویا ایسے انسانوں کو مردہ کہنے سے بھی روک دیا حالانکہ اس میں کیا شبہ ہے کہ وہ مُردہ ہیں۔کون کہہ سکتا ہے کہ حضرت حمزہ اسی طرح کے مُردہ نہیں تھے جیسے وہ صحابہ جو بیمار ہو کر فوت ہوئے۔اسی طرح اور جتنے شہید تھے وہ بھی ایسے ہی مُردہ تھے جیسے دوسرے مگر قرآن کہتا ہے ان کو مُردہ نہ کہو یہ ان کی ہتک ہے وہ نہیں مرسکتے کیونکہ وہ قوم میں زندگی کی روح پھونک گئے۔پس زندہ قوموں کے لئے ضروری ہے کہ ان میں اس قسم کی قربانیاں کرنے والے لوگ نہوں اور ایسی باتوں سے گھبرانا نہیں چاہئے۔جب مولوی عبید اللہ صاحب ماریشس میں فوت ہوئے تو کئی لوگوں نے کہا اپنے آدمی باہر بھیجے جاتے ہیں جو وہاں فوت ہو جاتے ہیں۔مگر جو زندہ قومیں ہوتی ہیں وہ ایسی باتوں سے ڈرتی نہیں بلکہ اگر ایک مرتا ہے تو ہزار آگے آجاتے ہیں۔اسی طرح مولوی نعمت اللہ صاحب کے وقت میں بھی کہا گیا کہ ایسے ملکوں میں کیوں بھیجا جاتا ہے جہاں امان نہیں مگر یاد رکھو کوئی قوم جب تک قربانی نہ کرے ترقی نہیں کر سکتی۔ہمیں اگر چہ ان مرنے والوں کا افسوس بھی ہے مگر ہم خوش بھی ہیں۔افسوس تو اس لئے کہ ایک اور کام کرنے والا شخص ہمارے ہاتھ سے جاتا رہا اور خوش اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو وہ مرتبہ دیا جو دنیا کی زندگی سے بہت بڑھ کر ہے۔اور وہ عزت عطا کی جس پر ہم میں سے ہر ایک رشک کرتا ہے۔پس بجائے اس کے کہ ہم گھبرائیں ہم میں یہ خواہش ہونی چاہئے کہ ایک کے بعد دوسرا جائے اور دوسرے کے بعد تیرا خدا کے فضل سے ہم دنیا کو زندہ کرنے والے ہیں اور جو شخص اس بات کو محسوس کرے گا وہ کسی قسم کی قربانی سے ڈرے گا نہیں بلکہ ایک کے بعد دوسرا