خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 343

خطبات محمود ۳۴۳ سال ۶۱۹۲۸ دیا اور کہہ دیا اگر آپ دعا کرانا چاہتے ہیں تو یہاں آکر کرا ئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام ایک دفعہ لدھیانہ گئے اور صوفی صاحب سے دوران ملاقات میں پوچھا آپ جو بارہ سال تک رنرز چھنڑ والوں کے مرید رہے اور ان کی خدمت کرتے رہے ہیں ان سے آپ نے کیا حاصل کیا۔صوفی صاحب کو توجہ کا علم آتا تھا اور اس میں بڑے ماہر تھے۔انہوں نے کہا میری توجہ کی طاقت ایسی بڑھ گئی ہے کہ یہ آدمی جو پیچھے آرہا ہے اگر اس پر توجہ کروں تو یہ ابھی بے ہوش ہو کر گر جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نہایت سادگی سے فرمایا۔پیر صاحب اس سے آپ کو کیا فائدہ ہو گا اور اس کو کیا؟ پیر صاحب چونکہ ولی اللہ تھے اس بات نے آپ پر ایسا اثر کیا کہ آپ کی آنکھیں کھل گئیں اور کہا آج سے میں اسے چھوڑتا ہوں۔اللہ تعالٰی نے ان کی برکت اور فیض سے ان کے سارے خاندان کو اور ان کے بہت سے مریدوں کو حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کی بیعت کی توفیق دی۔شہزادہ عبد المجید صاحب بھی ان کے مریدوں میں سے تھے جو افغانستان کے شاہی خاندان سے تھے اور شاہ شجاع کی نسل سے تھے۔آپ نہایت ہی نیک نفس اور متوکل آدمی تھے۔میں نے جب تبلیغ کے لئے اعلان کیا کہ ایسے مجاہدوں کی ضرورت ہے جو تبلیغ دین کے لئے زندگی وقف کریں تو انہوں نے بھی اپنے آپ کو پیش کیا۔اس وقت ان کے پاس کچھ روپیہ تھا انہوں نے اپنا مکان فروخت کیا تھا۔رشتہ داروں اور اپنے متعلقین کا حصہ دے کر خود ان کے حصہ میں جتنا آیا وہ ان کے پاس تھا اس لئے مجھے لکھا کہ میں اپنے خرچ پر جاؤں گا۔اس وقت میں ان کو نہ بھیج سکا اور کچھ عرصہ بعد جب ان کو بھیجنے کی تجویز ہوئی تو اس وقت وہ روپیہ خرچ کر چکے تھے مگر انہوں نے ذرا نہ بتایا کہ ان کے پاس روپیہ نہیں ہے۔وہ ایک غیر ملک میں جا رہے تھے ہندوستان سے باہر کبھی نہ نکلے تھے۔اس ملک میں کسی سے واقفیت نہ تھی مگر انہوں نے اخراجات کے نہ ہونے کا قطعا اظہار نہ کیا اور وہاں ایک عرصہ تک اسی حالت میں رہے۔انہوں نے وہاں سے بھی اپنی حالت نہ بتائی نامعلوم کس طرح گزارہ کرتے رہے۔پھر مجھے اتفاقاً پتہ لگا۔ایک دفعہ دیر تک ان کا خط نہ آیا اور پھر جب آیا تو لکھا تھا چونکہ میرے پاس ٹکٹ کے لئے پیسے نہیں تھے اس لئے خط نہ لکھ سکا۔اس وقت مجھے سخت افسوس ہوا کہ چاہئے تھا جب ان کو بھیجا گیا اس وقت پوچھ لیا جاتا کہ آپ کے پاس خرچ ہے یا نہیں ؟ پھر میں نے ایک قلیل رقم ان کے گزارہ کے لئے مقرر کر دی۔وہاں کے لوگوں پر ان کی روحانیت کا جو اثر تھا اس کا پتہ ان چٹھیوں سے لگتا تھا جو آتی رہی ہیں۔