خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 309

۳۰۹ سال ۶۱۹۲۸ ایک ضرور ہے اول یہ ہے کہ وہ مذہب جسے قبول کرنے کی وجہ سے تقویٰ اور خشیت اللہ حاصل نہیں ہوتی وہ سچا نہیں یا یہ کہ مذہب تو سچا ہے مگر اس نے کوشش نہیں کی۔اگر مذہب سچا نہیں تو اسے اپنے آپ کی فکر کرنی چاہئے کہ ادھر تو اس نے سب کچھ چھوڑا اور ادھر دین بھی نہ ملا۔ایک شاعر کا مقولہ ہے۔خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے اور خدا کو جن کے لئے چھوڑا تھا وہ بھی نہ ملے۔پس ایسا آدمی جو جھوٹے مذہب کو قبول کرتا ہے۔ادھر تو اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے جدا ہو جاتا ہے، طرح طرح کی تکلیفیں اٹھاتا ہے اور ادھر خدا سے بھی دور رہتا ہے گویا وہ کسی جگہ کا نہ رہا۔ایسے شخص کو چاہئے اگر اسے سچا نہ ہب نہیں ملتا تو ماں باپ کے مذہب میں ہی چلا جائے۔خواہ مخواہ کیوں تکالیف اٹھاتا اور اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے جدا رہتا ہے۔لیکن اگر وہ مذہب سچا ہے جو اس نے قبول کیا ہے تو دو صورتوں سے خالی نہیں یا تو اسے تقویٰ اللہ نصیب ہونا چاہئے یا اگر تقویٰ نصیب نہیں ہوتا تو معلوم ہوا وہ کوشش نہیں کرتا۔دیکھو اگر ایک کمرہ میں کوئی چیز رکھی ہو اور کسی سے کہیں وہ اٹھالاؤ مگر وہ کسے ملتی نہیں تو اسے کہیں گے تم نے اچھی طرح ڈھونڈا ہی نہیں کیونکہ چیز تو وہاں پڑی ہے ہم نے خود رکھی ہے۔اسی طرح جو مذہب سچا ہوتا ہے اسے قبول کرنے سے کبھی انسان خدا تعالی کا قرب حاصل کرنے میں ناکام نہیں ہو سکتا اور اگر ناکام رہتا ہے تو معلوم ہوا کہ اچھی طرح تلاش نہیں کی۔پس جب کوئی سچاند ہب قبول کرتا ہے تو ضروری ہے اسے وہ چیز مل جائے جس کے لئے مذہب نازل کیا جاتا ہے۔جس طرح یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص موسم پر کل چلائے عمدہ بیج ڈالے اچھی طرح کھیتی کی غورو پرداخت کرے پھر غلہ نہ پیدا ہو۔اگر غلہ نہ پیدا ہو تو اس کی کوئی وجہ ہو سکتی ہے۔ضرور ہے کہ کوئی خرابی پیدا ہو گئی ہو اور مناسب تدابیر نہ کی گئی ہوں۔مولانا روم فرماتے ہیں :- گندم از گندم بردید جوز جو گندم ڈالو تو گندم اُگے گی اور اگر جو ڈالو تو جو اگیں گے۔اس لئے کہتے ہیں :- از مکافات عمل غافل مشو اپنے کام کے نتائج سے غافل نہ ہو۔جو کچھ تم کر رہے ہو اس کا ایسا ہی نتیجہ نکلے گا جیسا کام