خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 310

خطبات محمود ہو گا۔٣١٠ سال ۱۹۲۸ء پس جب صحیح تدبیر کی جائے تو ممکن نہیں کہ درست نتیجہ نہ نکلے۔اور جب نتیجہ نہ نکلے تو ماننا پڑے گا کہ صحیح تدبیر نہیں کی گئی اور اگر تدبیر بھی صحیح ہو تو معلوم ہوا کوشش پوری نہیں کی گئی۔اسی طرح جب کوئی مذہب قبول کرے تو اسے دیکھنا چاہئے کہ اسے کیا حاصل ہوا ہے۔اگر کچھ نہ ملے تو وہ غور کرے کیوں نہیں ملا ؟ مذہب کی غرض تقویٰ اللہ ہے۔انسان دیکھے یہ اس میں پیدا ہوا ہے یا نہیں۔لوگوں سے لین دین میں بیاہ شادی میں ملنے جلنے میں ، معاملات کرنے میں اسے اپنا ہی فائدہ مد نظر رہتا ہے یا خدا کا خوف بھی اس کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔اگر اس کی کے دل میں ایسے موقعوں پر خدا کا خوف پیدا نہیں ہوتا اور وہ اپنے فائدہ کے لئے جائز و نا جائز کی کوئی پروا نہیں کرتا تو معلوم ہوا اس میں تقویٰ اللہ نہیں پیدا ہوا۔کیونکہ اگر تقویٰ اللہ پیدا ہو جائے تو اپنے حقوق قربان کر کے بھی دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے گا یا کم از کم دوسروں کے حقوق تو نہ مارے گا۔ہماری جماعت کے لوگوں کو خاص طور پر دیکھنا چاہئے کہ ان میں تقویٰ اللہ پیدا ہوا ہے یا نہیں۔پنجابی مثل ہے اور بڑی کچی مثل ہے کہ یا راہ پیا جانے یا واہ پیا۔یعنی کسی کا یوں پتہ نہیں لگتا جب واسطہ پڑے تب اس کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔بسا اوقات انسان اپنے متعلق بھی صحیح اندازہ نہیں لگا سکتا۔ایک انسان سمجھتا ہے میں بڑا نیک اور متقی ہوں مگر جب کوئی وقت آتا ہے تو لالچ اور ظلم سے نہیں بچ سکتا تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے متعلق جو سمجھا تھا وہ درست نہ تھا۔مشہور ہے ایک عورت تھی جس کی لڑکی بیمار ہو گئی اور ایسی بیمار ہوئی کہ بچنے کی امید نہ رہی اس عورت کا خیال تھا کہ اسے اپنی لڑکی سے بہت محبت ہے۔مہستی اس کا نام تھا۔اس نے اپنا نام لے لے کر دعا مانگی شروع کی کہ ہستی مرجائے اور یہ لڑکی بچ جائے۔ایک دن اتفاق ایسا ہوارہ تہجد کے وقت دعا مانگ رہی تھی کہ گھڑے یا کسی اور برتن میں کوئی کھانے کی چیز تھی جس میں گائے نے منہ ڈال دیا مگر نکالنا مشکل ہو گیا۔وہ اسی طرح صحن میں ادھر ادھر پھرنے لگی۔اندھیرے میں اس عورت نے سمجھا میری دعا قبول ہو گئی ہے اور عزرائیل میری جان نکالنے کے لئے آیا ہے۔اس وقت اسے معلوم ہوا مجھے اپنی لڑکی سے اتنی محبت نہیں تھی جتنی سمجھتی تھی۔جب اس نے سمجھا جان نکالنے کے لئے فرشتہ آیا ہے تو کہنے لگی ملک الموت من نہ