خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 19

خطبات محمود ۱۹ سال 1927ء رسول کریم ﷺ کی ایک سنت پر عمل کرنے کی تاکید فرموده ۲۸/ جنوری ۱۹۲۷ء) تشهد تعوذ اور سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: چونکہ آج ایک کام کی وجہ سے دیر ہو گئی ہے۔اس لئے میں نہایت اختصار کے ساتھ خطبہ پڑھنا چاہتا ہوں۔دنیا میں ایک عقیدہ اور خیال ہوتا ہے۔اور ایک عمل اور طریق۔عقائد اندرونی قوتوں پر قبضہ کر کے اور عمل ذاتی جدوجہد کے ساتھ انسان کے اندر ایسی قوتیں جمع کر دیتا ہے جن کے ساتھ وہ خوبیوں کے پیدا کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔لیکن ان عقائد اور اعمال کے درمیان ایک اور چیز بھی ہے جس کو عبادات اور اذکار کہتے ہیں۔از کار نصف عمل اور نصف عقیدہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔اگر انسانی اعمال کی حقیقت پر غور کیا جائے تو عبادات و از کار عملی نظر نہیں آتے بلکہ عقیدہ معلوم ہوتے ہیں۔ہاں اگر یہ لحاظ رکھا جائے کہ عبادات میں بعض حرکات بھی کرنی پڑتی ہیں۔تو اس لحاظ سے وہ اعمال نظر آتے ہیں۔اور اسی وجہ سے بہت سے لوگ عبادات و ذکر کی اصل حقیقت سے ناواقفیت کی وجہ سے نماز پر یہ اعتراض کرتے ہیں۔کہ اس میں حرکات سے کیا فائدہ اور نتیجہ ہے۔اگر دل میں خدا سے محبت ہے تو اسے ان حرکات کے ساتھ ظاہر کرنے کی کیا ضرورت ہے۔کیوں نہ اس کی بجائے کوئی ایسی بات کی جائے جس سے انسان کو فائدہ پہنچے۔ایسے لوگوں نے یہ سمجھا نہیں کہ عبادات ایک درمیانی ذریعہ ہے۔جن کے بغیر نہ عقائد درست رہ سکتے ہیں نہ اعمال۔اعمال اور عقائد دونوں کو ملانے کیلئے ایک ایسی چیز کی ضرورت تھی۔جو آدمی روحانی ہو اور آدمی جسمانی۔اور وہ ذکر اور عبادت ہے۔ان اذکار میں سے ایک وہ ذکر ہے جو سوتے وقت کیا جاتا ہے۔نبی کریم ا ہمیشہ سوتے