خطبات محمود (جلد 11) — Page 18
خطبات محمود A سال 1927ء بچوں کو جو سینکڑوں کی تعداد میں تھے۔زندہ آگ میں جلا جلا کر مارا گیا اور کسی ہندو کو اس بھیانک ظلم کے خلاف ہمدردی اور نفرت کا احساس نہیں ہوا۔مگر جب مسلمانوں سے غلطی ہوتی ہے تو وہ تمام یک زبان ہو کر اپنی غلطی پر نفرت اور ہندو قوم سے ہمدردی کی آواز اٹھاتے ہیں۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام میں امن پسندی کی تعلیم ہے باوجود اس کے کہ اس وقت مسلمان اسلام سے بہت دور جاپڑے ہوئے ہیں۔پھر بھی اسلام کی امن پسند تعلیم کا اسقدر گہرا اثر ان کے دلوں میں ہے کہ وہ اس کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔اگر بہار اور کنار پور کے ظالمانہ واقعات میں ہندو اپنے جرم کا اقرار کرتے تو یہی مظالم دو قوموں میں صلح کا موجب ہوتے۔لیکن ان کا اپنے جرم کا اقرار نہ کرنا بلکہ مذہب پر حملے کرنا اور اس موقع پر مسلمانوں کی ہمدردی کا قبول نہ کرنا بتاتا ہے کہ ہندو صلح کے لئے تیار نہیں۔اس کے خلاف مسلمانوں کا اپنے جرم کا اقرار کرنا بتاتا ہے کہ مسلمان صلح کے لئے تیار ہیں۔اور یہ اسلام کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔میں پھر ایک دفعہ اپنی جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ہمیشہ اخلاق کو مقدم رکھنا چاہئے اور اس جرم کو کم کرنے کی کوئی وجہ نہیں بلکہ اس کو جتنا بھی بھیانک کر کے دکھلایا جائے اتنا ہی ہمارے اندر اخلاق کا خیال پیدا کرے گا۔(الفضل یکم فروری ۱۹۲۷ء) تذکره ص ۲۳۴۔شردھانند جو آریوں کے بلند پایہ لیڈر لیکھرام کے قائم مقام تھے۔ان کا اصل نام منشی رام تھا۔یہ دسمبر ۱۹۲۶ء میں عبدالرشید دہلوی کا تب کے ہاتھ سے مارے گئے (مرتب) سے بخاری کتاب الجھاد باب إِنَّ اللَّهَ يُوتِدُ الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ -