خطبات محمود (جلد 11) — Page 20
خطبات محمود سال 1927ء وقت آیت الکرسی، سورہ اخلاص ، سورہ فلق اور سورہ ناس جو قرآن کریم کی آخری سورتیں ہیں۔تین دفعہ پڑھ کر ہاتھوں پر پھونکتے اور پھر ہاتھ اپنے جسم پر پھیرا کرتے تھے۔آپ ہاتھوں پر پھونک کر ہاتھوں کو جسم پر اس طرح پھیرتے کہ سر سے شروع کرتے۔اور جہاں تک ہاتھ پہنچ سکتے وہاں تک پھیرتے۔یہ آنحضرت ا کی سنت ہے جس کام کو آپ نے دینی کام سمجھ کر باقاعدہ اور ہمیشہ جاری رکھا۔اسے سنت کہتے ہیں۔چونکہ یہ ذکر بھی آپ ہمیشہ کیا کرتے تھے۔اس لئے اس سنت کی پابندی ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔بعض نادان صرف اس نیکی کو ضروری سمجھتے ہیں جس کے بغیر انسان سیدھا جنم میں چلا جائے۔حالانکہ انسان کی طرف تو کسی عیب کا منسوب ہونا بھی بڑی بات ہوتی ہے۔ایک دفعہ ایک بڑ۔آدمی نے حضرت خلیفہ اول کے سامنے کہا اگر ہم جنم میں بھی گئے تو آخر جنت میں ہی چلے جائیں گے۔پھر کیوں نہ دنیا میں عیش و عشرت کریں ہم یہاں بھی عیش و عشرت کرتے ہیں اور وہاں بھی کریں گے۔کیونکہ آخر کار جنت میں چلے جائیں گے اور دونوں جہان میں مزے اڑائیں گے۔حضرت خلیفہ اول اسے فرمانے لگے۔میں ایک عرض کرنا چاہتا ہوں آپ ناراض تو نہ ہوں گے۔اس نے کہا ناراضی کی کیا بات ہے۔آپ فرما ئیں۔آپ نے کہا یہ دس روپے آپ لے لیں یہ بازار ہے میں یہاں آپ کو دو جوتیاں لگانا چاہتا ہوں۔یہ سن کر اس کا چہرہ غضب سے سرخ ہو گیا اور کہنے لگا۔میں آگے ہی جانتا ہوں۔مولوی بڑے بد تہذیب ہوتے ہیں۔آپ نے فرمایا آپ یہاں چند آدمیوں کے سامنے تو روپیہ لے کر جوتے کا نام بھی نہیں سن سکتے۔پھر وہاں جہاں ہزاروں لاکھوں اگلے پچھلے لوگ جمع ہوں گے آپ اپنی ذلت کیسے برداشت کرلیں گے غرض یہ بڑی گندی فطرت کی علامت ہے کہ انسان صرف اسی عمل سے بچے جو سیدھا اسے جہنم میں لے جائے۔اور اس کام کو ضروری سمجھے جس کے بغیر وہ جنت میں نہیں جائے گا۔اس کے سوا کوئی نیکی کا کام نہ کرے۔پس ذکر کو بھی یہ خیال کر کے نہیں چھوڑنا چاہئے کہ یہ ایسا ضروری نہیں جس کے نہ کرنے سے جہنم میں چلے جائیں گے اور نہ یہ خیال کرنا چاہئے کہ صرف یہی ذکر جنت میں جانے کے لئے کافی ہے۔اور اس کے ساتھ اور اعمال کی ضرورت نہیں جب نبی کریم ا جیسا انسان اپنی ترقیات کے لئے ان از کار کا محتاج تھا تو تم کیونکر کہہ سکتے ہو کہ ہمیں ایسے از کار کی ضرورت نہیں۔آنحضرت کی یہ سنت تھی۔کہ آپ ہمیشہ سوتے وقت آیت الکرسی اور تینوں قل تین دفعہ پڑھتے اور