خطبات محمود (جلد 11) — Page 63
خطبات محمود سال 1927ء جرات اور بچی بہادری دکھائیں (فرموده ۱۵/ اپریل ۱۹۲۷ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: دنیا میں مختلف رنگوں کے انسان ہوتے ہیں اور مختلف صفات کے انسان ہوتے ہیں۔کبھی تو ایک انسان ترقی کرتے کرتے اس درجہ پر پہنچ جاتا ہے جس درجہ کو محمدی درجہ کہتے ہیں۔اور کبھی تنزل کرتے کرتے اس درجہ پر پہنچ جاتا ہے جس کو ابلیس اور ابو جہل کا درجہ کہتے ہیں۔مختلف صفات انسان کے اندر ہوتی ہیں جن کے برے یا اچھے استعمال کے ساتھ اور جن کو احتیاط یا بے احتیاطی کے ساتھ کام میں لانے کے نتیجے میں وہ اچھا یا برا بن جاتا ہے۔ایک ہی قسم کی قوتیں لیکر انسان دنیا میں آتا ہے۔لیکن آگے ان کے نتیجے مختلف نکلتے ہیں۔ایک انسان تو ایسا ہوتا ہے جو اپنی عقل استعمال کر کے دنیا کی آسائش حاصل کرتا اور آرام کے سامان بہم پہنچا لیتا ہے اور بسا اوقات ایسا انسان نہ صرف خدا کی رضا حاصل کرتا ہے بلکہ بندوں پر بھی غیر فانی اثر چھوڑ جاتا ہے۔اور ہمیشہ کے لئے اس کا نشان قائم کر دیا جاتا ہے جسے کوئی مٹا نہیں سکتا۔لیکن ایک شخص اسی عقل کو لیکر چوری کے طریقے نکالتا ہے۔اس عقل سے فتنہ و فساد اور جھگڑا پیدا کرتا ہے۔اور بسا اوقات وہ صرف یہی نہیں کرتا کہ خدا کی ناراضگی حاصل کر لیتا ہے بلکہ بندوں میں بھی رسوا ہوتا ہے۔اور اپنے لئے ہمیشہ کی ذلت اور بد نامی پیدا کرلیتا ہے۔مثلاً فرعون ہے ہزاروں سال فرعون پر گذر گئے۔لیکن باوجود اس کے کہ یہ اسم علم نہیں یہ ذاتی نام نہیں۔بلکہ مصر کے بادشاہوں کا لقب تھا۔لیکن حضرت موسیٰ کے دشمن ایک فرعون کی وجہ سے یہ نام ہی گالی بن گیا۔حالانکہ کوئی تعجب نہیں کہ ان بادشاہوں میں سے جو فرعون کہلاتے تھے نیک اور متقی بھی ہوں۔بلکہ قرین قیاس یہی ہے کہ سینکڑوں سال جن کو حکومت دی گئی۔وہ حضرت موسیٰ کے فرعون جیسے نہیں تھے خدا ایسوں