خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 64

خطبات محمود سال 1927ء کو اتنا عرصہ حکومت نہیں دیا کرتا۔اور ایسے لوگوں کو دیر تک بر سر حکومت نہیں رہنے دیتا۔ان فرعونوں کے نیک نام تاریخوں میں محفوظ ہیں۔لیکن ان کے رتبہ کی بلندی اور ان کے نیک نام کی بڑائی اس شان کی نہ تھی جو حضرت موسیٰ کے فرعون کی بدی کو مٹادیتی۔اس لئے حضرت موسیٰ کے ایک فرعون کی بدی اور قوتوں کے بد استعمال سے وہ برا ہو گیا۔اور نہ صرف خود برا ہو گیا بلکہ یہ نام ہی جو کہ پشتہا پشت سے ان لوگوں کی عزت کا معیار سمجھا جاتا تھا گالی بن گیا۔یہ کتنی بڑی برائی ہے کہ ایک شخص کے اپنی قوتوں کو بے احتیاطی سے استعمال کرنے کے سبب ایک عزت کا نام گالی ہو جائے۔حضرت موسیٰ سے مقابلہ کرنے والے فرعون کا اصل نام منفتاح کہا جاتا ہے۔منفتاح کی برائی کتنی بڑی تھی۔کہ اس سے وہ فرعون کا لفظ جو اس سے پہلے فرعونوں کے لئے عزت کا نشان تھا۔اس کی بدی سے گالی بن گیا۔برائی تو تھی منفتاح کی۔لیکن اس ایک کی برائی سے فرعون کا لفظ ہی برا ہو گیا۔اور جب ہم کہتے ہیں فرعون برا تھا۔تو ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ منفتاح برا تھا۔اور منفتاح کی برائی کے اظہار کیلئے ہمیں فرعون کا لفظ بولنا پڑتا ہے لیکن باوجود اس کے اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ یہ برائی ہمیشہ کے لئے اس نام کے ساتھ لگ گئی اور فرعون لفظ ہی گالی بن گیا۔اس کے بالمقابل ایک وہ شخص ہے جو اپنی عقل اور قوت کو صحیح طریق پر استعمال کرتا ہے۔ایسا شخص ترقی کرتا ہوا اس درجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ پچھلے لوگوں کے لئے یاد گار بن جائے۔اور وہ جس قوم کی طرف منسوب ہو وہ معزز سمجھی جائے۔جس نسل کی طرف منسوب ہو وہ معزز ہو جائے۔جس عالم کی طرف منسوب ہو وہ معزز ہو جائے جیسے آنحضرت ا کہ آپ جس قوم کی طرف منسوب ہوئے وہ قوم معزز ہو گئی۔جس نسل کی طرف منسوب ہوئے وہ نسل معزز ہو گئی۔جس عالم کی طرف منسوب ہوئے وہ عالم معزز ہو گیا۔آدم کی پیدائش کے وقت جب فرشتوں نے اعتراض کیا کہ یہ پیدا ہو کر برے کام کرے گا تو خدا تعالیٰ نے فرمایا تم کو کیا معلوم ہے کہ اس کی نسل سے کیسے کیسے اچھے انسان پیدا ہوں گے۔کون سے اچھے آدمی پیدا ہونے تھے۔وہ وہی تھے جنہوں نے محمد نی رنگ پایا۔فرشتوں نے انسانوں کی برائیاں پیش کیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ڈانٹ کر کہا انسانوں میں چور اور بد بھی ہونگے۔لیکن باوجود اس کے پھر بھی وہ اعلیٰ ہیں کیونکہ محمد ہے ان میں سے پیدا ہونے والے ہیں تو اس انسان کا عالم آپ کے ذریعہ معزز ہو گیا۔غرض اللہ تعالیٰ نے آنحضرت اللہ کے نقش قدم پر چلنے والوں کو پیش کیا کہ وہ لوگ بھی تو ان میں پیدا ہونگے۔جو محمدی درجہ پائیں گے پس خداداد طاقتوں کو جب