خطبات محمود (جلد 11) — Page 469
خطبات محمود ۴۶۹ سال ۶۱۹۲۸ پہنچتی ہیں۔ اسی طرح جب انسان کے اندر عزت پیدا ہوتی ہے وہ حقیقی عزت جو کہ خدا تعالٰی کی طرف سے عطا ہوتی ہے خواہ دنیوی یا دینی کمالات کے لحاظ سے ہو تو اس وقت انسانیت سے بھی کچھ شعاعیں نکلتی ہیں : ں جو دوسروں کے قلوب پر پڑتی ہیں۔ وہ ان کی آنکھوں سے اس کے جلال کا اظہار کراتی ہیں۔ وہ ان کی زبان سے اس کی ثناء کراتی ہیں۔ لوگ ایسے شخص کی عزت کرتے ہیں۔ زبانیں اس کی تعریف کرتی ہیں۔ حقیقت شناس اس کا ادب اور احترام کرتے ہیں لیکن یہ عزت حقیقی عزت نہیں عزت وہی ہوتی ہے جو اس کے اندر ہوتی ہے اور یہ اس کی شعاعیں ہوتی ہیں جو دوسروں کو نظر آتی ہیں۔ سورج کی طرح عزت و بڑائی بھی محدود نہیں کی جاسکتی۔ وہ پھیلتی ہے اور لوگوں کے قلوب کو مسخر کرتی ہے۔ اس کے بعد ان کی زبانوں، کانوں بلکہ جسموں کو مسخر کرتی ہے۔ اور اس سے بڑھ کر ان کے خیالات و افکار کو مسخر کر لیتی ہے۔ زبانیں اس کی تعریف کرتی ہیں، آنکھیں اس کے سامنے جھک جاتی ہیں ، ہاتھ اس کے خلاف اٹھنے سے پر ہیز کرتے ہیں، خیالات اس کی تائید میں جوش میں آتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں یہ ہیں یہ عزت ہے لیکن یہ عزت نہیں یہ دراصل عزت کا ظل ہے۔ عزت وہی تھی جو اس کے دل میں تھی جو اس کی ذات میں تھی۔ جو کچھ لوگوں کی زبانوں، کانوں اور جسموں سے ظاہر ہو رہا ہے یہ اس کا پر تو ہے اس کی دھوپ ہے اور یہ اس عزت کے سورج کی شعاعیں ہیں۔ وہ عزت جو انسان کی ذات سے تعلق رکھتی ہے خدا تعالی کے فضل سے ہی آتی ہے اور خدا ہی کے پیدا کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ انسانوں کے بنانے سے نہیں بنتی۔ انسان کسی کو بڑا نہیں بنا سکتے بلکہ خدا بناتا ہے۔ یہ نور خدا ہی پیدا کرتا ہے خواہ دنیوی لحاظ سے ہو یا دینی لحاظ سے۔ ایک استاد طالب علم کو پڑھاتا ہے لیکن درحقیقت وہ اسے علم نہیں سکھا سکتا۔ اگر ایک کند اور غبی الذہن لڑکے کو کسی بہتر سے بہتر استاد کے سامنے بٹھا دیا جائے تو استاد اسے کیا سکھا سکے گا۔ صناع بڑی اچھی چیزیں بناتے ہیں لیکن اپنے پاس سے نہیں۔ ایک کاریگر کو عمدہ لکڑی دو وہ اسے گرید کر اور چھیل کر نہایت اعلیٰ صورت میں تبدیل کر دے گا لیکن وہ لکڑی کو پیدا نہیں کر سکتا۔ لکڑی کو خدا ہی پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح ہیرا اپنی روشنی خدا تعالٰی سے ہی لے کر آتا ہے جو ہری صرف اس کو کاٹتا ہے اور اس سے زنگ دور کر دیتا ہے وہ ہیرا پیدا نہیں کر سکتا۔ سار سونے سے نہایت خوبصورت زیور بناتا ہے مگر وہ سونا نہیں بنا سکتا۔ یہ عالی شان عمارتیں اور محلات جو پرانے زمانہ کی یادگاریں ہیں جو ہزاروں ہزار سال سے حوادث زمانہ کا مقابلہ کر رہی ہیں جن