خطبات محمود (جلد 11) — Page 468
خطبات محمود ۶۱ سال ۲۱۹۳۸ خدا کی دی ہوئی عزت کوئی چھین نہیں سکتا (فرموده ۲۱/ ستمبر ۱۹۲۸ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: دنیا میں انسان جن چیزوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور جن کے حصول کے لئے یا جن کے قائم رکھنے کے لئے باقی چیزوں کو قربان کر دیتا ہے ان میں سے ایک اور در حقیقت سب سے بڑی انسان کی عزت ہے۔عزت بھی آگے دو قسم کی ہوتی ہے ایک حقیقی جو ذاتی عزت کہلاتی ہے اور دوسری علی جو نسبتی عزت کہلاتی ہے۔ذاتی عزت تو وہ خوبیاں اور کمالات ہیں جو انسان کے اندر پائے جاتے ہیں۔وہ کسی کو نظر آئیں یا نہ آئیں کوئی ان کا اعتراف کرے یا نہ کرے لوگوں پر وہ ظاہر ہوں یا نہ ہوں بہر حال اس انسان کی بڑائی میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔یہ عزت اللہ تعالٰی کی صفات ذاتیہ کا ظل ہوتی ہے۔جس طرح اللہ تعالٰی کی وہ صفات جو کہ اس کی ذات سے تعلق رکھتی ہیں وہ کسی کے جانے یا نہ جاننے کی محتاج نہیں مخلوق ہو یا نہ ہو کوئی شخص عبادت کرے یا نہ کرے خدا خدا ہی ہے اس کی طاقتیں اپنی ذات میں کسی کی حمد کی محتاج نہیں۔اسی طرح انسان کی عزت بھی کسی کی توصیف و ثناء کی محتاج نہیں۔وہ انسان جسے ذاتی عزت حاصل ہے اپنی ذات میں بڑا ہے خواہ لوگ اس کا اقرار کریں یا نہ کریں مگر ایک عزت نسبتی ہوتی ہے وہ حقیقی عزت کا ظل ہوتی ہے۔جس طرح سورج اپنے ساتھ شعائیں بھی رکھتا ہے۔وہ اپنی ذات میں روشن ہے اور روشنی کے باعث وہ اپنی شعائیں دور دور پھینکتا ہے۔وہ شعائیں سورج نہیں لیکن اس کے نور کا ظل ہیں۔اربوں ارب میل پر سورج ہے مگر اس کا ظل دنیا پر بھی پڑتا ہے اور اس کی شعاعیں زمین کو بھی منور کر رہی ہیں۔یہ دھوپ جو ہمیں دن کو اور یہ چاندنی جو رات کو نظر آتی ہیں۔کیا چیز ہے؟ یہ وہی شعائیں ہیں جو کبھی براہ راست اور کبھی بالواسطہ ہم تک