خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 470

خطبات محمود سال ۱۹۲۸ء کے بنانے والے اور بنانے والوں کی نسلیں بلکہ بنانے والوں کی نسلوں کے نام بھی مٹ گئے ہیں لیکن وہ سر بفلک کھڑی ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کو چیلنج کرتی ہیں کہ اس صناعی کے تم کیا مقابلہ کرو گے مگر ان کا حقیقی کمال در اصل اس مادہ میں ہے جو خدا نے پیدا کیا۔انسان نے صرف اس کو ترتیب سے سجا دیا لیکن امتداد زمانہ کا مقابلہ کرنے والے مادہ کا پیدا کنندہ دراصل خدا تعالی ہی ہے۔پس حقیقی بڑائی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی آتی ہے اور حقیقی ذلت بھی خدا کی طرف سے ہی آتی ہے۔جیسا کہ خدا تعالٰی فرماتا ہے۔تُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ (ال عمران (۲۷) یعنی خدا ہی عزت وذلت پیدا کرتا ہے۔لیکن دنیا میں بعض ایسے نادان انسان بھی ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ عزت ان کے ہاتھ میں ہے اسی لئے وہ کہہ دیتے ہیں ہم نے ہی فلاں کو عزت دی ہم ہی اس کی عزت چھین لیں گے۔وہ یہ نہیں جانتے کہ عزت کا بنانا یا اس کا چھینا ان کے اختیار کی بات نہیں۔جس چیز کو کسی انسان نے بنایا ہی نہیں وہ اسے چھین کیسے سکتا ہے۔تم سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھا سکتے ہو اور اگر فائدہ نہ اٹھانا چاہو تو کمرے کے کواڑ بند کر کے اپنے لئے تاریکی پیدا کر سکتے ہو لیکن سورج سے اس کی روشنی چھین نہیں سکتے۔تم زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہو کہ اپنی آنکھوں پر پردے ڈال لو اور اپنے آپ کو اس روشنی سے محروم کر لو سورج کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔اسی طرح وہ خوبصورت اور دل کی آوازیں جنہیں اللہ تعالٰی نے تسخیر قلوب کے لئے بنایا ہے اگر چاہو تو تم ان سے فائدہ اٹھا لو یا چاہو تو اپنے کانوں میں روئی نس کر انہیں نہ سنو۔لیکن خوبصورت آواز کو دنیا سے نابود کر دینا تمہارے اختیار کی بات نہیں۔اسی طرح تم اچھی مزیدار چیزوں سے لطف حاصل کر سکتے ہو یا ان چیزوں کے کھانے سے انکار کر سکتے ہو اور اپنے آپ کو ان کی لذت سے محروم رکھ سکتے ہو لیکن لذیذ چیز کو اس کی لذت سے محروم نہیں کر سکتے۔اسی طرح تم میٹھے کو مٹھاس سے علیحدہ نہیں کر سکتے ہاں اس کے استعمال سے انکار کر سکتے ہو۔اسی طرح وہ لذتیں جو چھونے سے حاصل ہوتی ہیں اگر چاہو تو تم ان سے لذت حاصل کر لو اور اگر نہ چاہو تو نہ کرو لیکن ان چیزوں کو ان کی ملائمت سے علیحدہ نہیں کر سکتے کیونکہ ان چیزوں میں یہ خوبیاں کسی انسان نے پیدا نہیں کیں بلکہ خدا نے پیدا کی ہیں اور خدا کی پیدا کی ہوئی خوبی کو کوئی انسان نہیں چھین سکتا۔اسی طرح انسان میں بھی عزت بڑائی اور خوبی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی آتی ہے اور کوئی انسان اسے چھین نہیں سکتا۔کچھ عرصہ ہوا اور