خطبات محمود (جلد 11) — Page 448
خطبات محمود ۴۴۸ سال ۶۱۹۲۸ نے رکھی ہے اور اس فتنہ اور لڑائی کا سد باب کریں جس کا دروازہ انھوں نے کھولا ہے اور کوشش کریں کہ مسلمانوں کے اندر اس صحیح اتحاد کی بنیاد پڑ جائے جس کے بغیر آج مسلمانوں کا فاد کی یاد پڑ جائے جس کے بغیر آ بچاؤ مشکل ہے اور جسے صرف اپنی ذاتی اغراض کے قیام کے لئے یہ لوگ روکنا چاہتے ہیں اور مشکل ہے او کوشش کریں کہ ان میں سے انصاف پسند روحیں اپنی غلطی کو محسوس کر کے آپ لوگوں میں آ شامل ہوں تاکہ جس قدر بھی ہو سکے اس اختلاف کی شدت کو کم کیا جا سکے ۔ اس میں میں نے یہ بھی ظاہر کیا تھا کہ وہ معاہدہ جو ڈلہوزی میں ہوا تھا اسے توڑنے کی ابتداء ان لوگوں نے کی۔ اس کے جواب میں مولوی محمد علی صاحب نے ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں بہت زیادتی کی ہے اور بہت سختی سے کام لیا ہے۔ مجھے گالیاں دی گئی ہیں اور میرے خوابوں پر تمسخر اڑایا گیا ہے۔ میں ان سب باتوں کو قطعی طور پر نظر انداز کر دیتا ہوں کیونکہ میں محسوس کرتا ہوں مسلمانوں میں یہی حد سے بڑھا ہوا جوش ہے جو دوسروں کے سامنے انہیں ذلیل کر رہا ہے۔ مسلمان آپس میں مل کر کام کرنے کے لئے تو تیار نہیں ہیں مگر ہندوؤں سے مل کر کام کر سکتے ہیں اسی جوش میں مولوی محمد علی صاحب آگئے ہیں اور انہوں نے سختی کی ہے۔ کچھ تعجب نہیں کہ کچھ دن کے بعد وہ خود اس پر ندامت محسوس کریں اور کوئی تعجب نہیں ان کی جماعت کے شریف الطبع لوگ ندامت محسوس کریں کہ مولوی صاحب نے بیجا سختی کی ہے۔ وہ ایسا کریں یا نہ کریں یہ ان کا خدا سے معاملہ ہے مگر ان باتوں کا جواب دینے کے لئے میں تیار نہیں ہوں۔ جس بات کے متعلق اس وقت میں کچھ کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے اس مضمون میں ایک فقرہ لکھا تھا جو یہ تھا۔ اگر دوسرے فرقوں بلکہ غیر مذاہب کے غیر جانب دار لوگوں سے بھی پوچھا جائے گا تو وہ بلا تردد گواہی دیں گے کہ پیغام صلح جو کچھ ہمارے خلاف لکھتا ہے اور جس طرز سے لکھتا ہے اس تردد سے بیسواں حصہ بھی ہم نہیں لکھتے“۔ اس پر مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں۔ " ہمیں یہ چیلنج منظور ہے معاہدہ کے بعد کی دونوں فریق کی تحریروں کو لے لیا جائے اور جماعت احمدیہ سے باہر کوئی تین مسلمان منصف بتراضی فریقین مقرر کر لئے جائیں۔ بیسویں اور دسویں کے فیصلہ کی ضرورت نہیں وہ جس فریق کی طرف سے معاہدہ کے بعد صریح زیادتی کی ابتداء قرار دیں وہ دوسرے فریق سے معافی مانگے “۔