خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 449

خطبات محمود ۴۴۹ سال ۱۹۲۸ء جب مولوی صاحب نے فیصلہ کا ایک طریق منظور کر لیا ہے تو مجھے بھی ان کی گالیوں کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔میں نہیں چاہتا کہ ایسا رنگ پیدا ہو جو مسلمانوں میں تفرقہ کا موجب ہو۔اگر چہ مولوی صاحب کے ایک دوست نے حال ہی میں لکھا ہے کہ وہ ہمیں مسلمانوں کا ایک فرقہ نہیں سمجھتے بلکہ اسلام سے علیحدہ مذہب قائم کرنے والے قرار دیتے ہیں۔گویا ان کے نزدیک شیعہ اہلحدیث، حفی وغیرہ تو سارے کے سارے اسلامی فرقے ہیں لیکن ہم مبالکین اسلامی فرقہ نہیں۔خود مولوی صاحب بھی ہمیں اسلامی فرقہ مانتے ہیں یا نہیں اس کا جواب یہ ہے کہ شاہ پور کے ڈسٹرکٹ بورڈ کے الیکشن میں مولوی محمد علی صاحب کا ایک ہم خیال پچھلے دنوں جب کھڑا ہوا۔تو وہاں کی ہماری جماعت کے لوگوں نے کہا وہ دوسرے شخص کو رائے دیں گے۔اس پر مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے میرے پاس چٹھی آئی جس میں لکھا تھا کہ آپ کے مبائع ایک غیر احمدی کو ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ایک غیر مبائع کے مقابلہ میں یہ کیسے افسوس کی بات ہے۔یہ فقرہ بتاتا ہے کہ ضرورت کے وقت دوسرے مسلمانوں کی نسبت مبائع ان کو پکے مسلمان نظر آتے ہیں۔اور ان کے نزدیک مبائعین کو اپنے روٹ ایک غیر احمدی کے مقابلہ میں غیر مبائع کو دینے چاہئیں۔تو ووٹوں کے وقت ہم کو دوسروں کی نسبت زیادہ پکا مسلمان سمجھتے ہیں مگر دو سرے معاملات میں اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں۔یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ یہ لوگ ہم سے دو رنگ میں سلوک کرتے ہیں۔جب ووٹ لینے کا وقت آتا ہے اس وقت تو ہم دوسرے مسلمانوں کی نسبت پکے مسلمان بن جاتے ہیں اور جب ۱۷ جون کے جلسوں کی تحریک ہوتی ہے تو ہم سے بلاتر کوئی نہیں رہتا۔بهر حال مولوی صاحب نے فیصلہ کا جو طریق پیش کیا ہے اسے میں منظور کرتا ہوں اور اس کے لئے تین آدمیوں کو لے لیتا ہوں جو معاہدہ کے بانی تھے۔یعنی سید عبد الجبار صاحب خاں صاحب مولوی غلام حسن صاحب خان دلاور خان صاحب ان میں سے دو تو غیر مبائع ہیں اور ایک نے اس معاہدہ کے بعد بیعت کی ہے۔پہلے وہ بھی غیر مبائع تھے وہ بیعت میں حدیث الحمد ہیں۔ایک سال کے قریب انھیں بیعت میں داخل ہوئے ہوا ہو گا اور عقید تا وہ اب بھی بعض امور میں مجھ سے اختلاف رکھتے ہیں۔چونکہ ان تینوں میں سے صرف ایک مبائع ہیں اس لئے میں ایک ممبر اور اپنی طرف سے پیش کرتا ہوں اور وہ میاں بشیر احمد صاحب ہیں۔اس طرح دو مولوی صاحب کی طرف سے اور دو میری طرف سے ہوئے۔ان کے سامنے لٹریچر رکھ دیا جائے