خطبات محمود (جلد 11) — Page 447
خطبات محمود مام ام سال ۱۹۲۸ء شائع ہو چکی ہیں جن میں عام اسلامی مسائل درج ہوتے ہیں مگر اس فریق نے کبھی ان کے پڑھنے کی تحریک نہیں کی یہ سب باتیں ان سے نظر انداز ہو گئیں اور انہوں نے لکھا کہ کتابوں کا نام تنگ دلی کی وجہ سے نہیں لکھا گیا۔اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کے متعلق لکھا کہ نبی کریم کے متعلق پاکیزہ تحریک کے بارے میں بے ہودہ نیش زنی کر کے لاہوری جماعت نے اپنی نہایت افسوسناک تنگ دلی و تعصب کا ثبوت دیا اور ”پیغام صلح" نے سرورق پر آیت تعالوا إلى كَلِمَةٍ سَوَاء بَيْنَنَا (ال عمران (۶۵) لکھ کر غیر مسلموں تک کے ساتھ اشتراکی امور میں مل کر کام کرنے کی جو دعوت لاہوری جماعت نے دے رکھی ہے۔اس کے برخلاف یہ طریق عمل دکھایا ہے۔اس کا جواب دیتے ہوئے ”پیغام صلح" نے ہمارے متعلق لکھا ان کا اختیار ہے کہ وہ جو چاہیں کریں صلح کریں یا جنگ کریں ہم دونوں حالتوں میں ان کے عقائد کے خلاف جو اسلام میں خطر ناک تفرقہ پیدا کرنے والے ہیں تو پھر اس بحث میں حال میں جنگ کریں گے۔میں پڑنے کی ضرورت نہیں سمجھتا کہ ہمارے عقائد اسلام میں تفرقہ پیدا کرنے والے ہیں یا انہوں نے اس رنگ میں ان کو پیش کیا ہے۔بہر حال انہوں نے لکھا کہ ہم صلح کریں یا جنگ وہ ہمارے خلاف جنگ کرتے رہیں گے۔اب سوال یہ ہے کہ وہ کونسا عقیدہ تھا جس کے خلاف انہوں نے یہ جنگ کا اعلان کیا۔وہ میں تھا کہ سارے ہندوستان میں جلسے ہوں اور ان میں رسول کریم ﷺ کی پاکیزہ سیرت بیان کی جائے کیونکہ جس مضمون پر سیوال جنگ کیا گیا اس میں مضمون نویس نے ایک طرف تو یہ لکھا تھا کہ خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کی کتابوں کے نام کیوں نہ شائع کئے گئے اور دوسری طرف یہ لکھا تھا کہ جو جلسے رسول کریم ﷺ کی عظمت کے اظہار کے لئے منعقد ہونے والے تھے ان کی غیر مبالعین نے کیوں مخالفت کی۔اس پر پیغام صلح نے لکھا ان کے عقائد جو تفرقہ پیدا کرنے والے ہیں ان کے خلاف ہر حال میں جنگ کی جائے گی۔پس تفرقہ ڈلوانے والے عقائد میں سے ایک عقیدہ ۱۷ جون کے جلسوں کی تحریک تھی۔میں نے اس کے متعلق لکھا ہماری جماعت کے لوگ اس جنگ کے دفاع کے لئے تیار ہو جائیں اور ان صداقتوں کے پھیلانے کے لئے مستعد ہو جائیں جو خدا تعالٰی نے ان کو دی ہیں اور اس بغض و کینہ کو انصاف اور عدل کے ساتھ مٹانے کی کوشش کریں جس کی بنیاد ان لوگوں