خطبات محمود (جلد 11) — Page 429
خطبات محمود ۴۲۹ 4 سال ۱۹۲۸ء مسلمانوں کی ترقی کے دوگر فرموده ۲۷/ جولائی ۱۹۲۸ء بمقام ڈلہوزی) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: قُلْ هُذِهِ سَبِيلِي ادْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةِ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي ، وَسُبُحْنَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (یوسف: ۱۰۹) اس کے بعد فرمایا رسول کریم ال کو اللہ تعالی اس آیت میں دو امور کا اعلان کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ گویا رسول کریم کا دعوی دو نہایت چھوٹے سے جملوں میں بیان فرماتا ہے اور دنیا کو اس کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ خدا تعالی پہلی آیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے قُلْ هَذِهِ سَبِیلِی کہہ دے یہ جو کچھ پہلے بیان ہوا ہے یہ میرا طریق اور راستہ ہے۔ چونکہ ہر انسان لیے مضمون سے نتیجہ نکالنے کے قابل نہیں ہوتا اور جہاں بات کو وضاحت کے ساتھ بیان کرنے کے لئے تفصیل کی ضرورت ہوتی ہے وہاں تھوڑی عقل اور محدود سمجھ والوں کے لئے اجمال کی بھی ضرورت ہوتی ہے اس لئے پہلی آیات کے بعد فرمایا هذِهِ سَبِيلِی - وہ رستہ جس کی طرف پہلے اشارہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ ادعُوا إِلَى اللهِ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ تو رسول کریم ﷺ سے فرمایا کہہ دے میرا یہ راستہ ہے جو پہلے بیان ہوا ہے۔ وہ یہ ہے کہ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ سبیلی کہہ کر پہلی بات یہ بیان کی کہ میں اس رستہ پر عامل ہوں صرف یہ نہیں کہ لوگوں کو اس کی طرف بلاتا ہوں بلکہ خود بھی اس پر عمل کرتا ہوں۔ پہلی چیز ایک مدعی کے لئے یہ ہوتی ہے کہ جس بات پر عمل کرنے کے لئے دوسروں سے کہتا ہو پہلے خود اس پر عامل ہو۔ اگر ایک شخص لوگوں کو ایک بات کی طرف بلاتا ہے مگر خود اس پر عمل نہیں کرتا تو اس کی بات کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔ ہر انسان جو اس کی بات سنے گا یہی سمجھے گا کہ اگر اس بات میں خوبی ہوتی تو یہ خود بھی