خطبات محمود (جلد 11) — Page 430
خطبات محمود ۴۳۰ سال ۱۹۲۸ء اس پر عمل کرتا۔پس اگر کوئی شخص اعلیٰ اخلاق سکھائے اچھے معاملات کی تلقین کرے اور فلسفیانہ باتیں بتائے لیکن خود ان کو رد کرتا جائے تو وہ کبھی نیکی پھیلانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔اگر ہم لوگوں سے کہتے ہیں کہ خدا کی طرف آؤ خدا کے دین کے لئے قربانیاں کرو اپنی قوم کے لئے قربانی اور ایثار دکھاؤ تو ضروری ہے کہ اپنے عمل سے بھی ان باتوں کا ثبوت دیں۔زبان با اثر اس وقت ہو سکتی ہے جب کہ انسان وہ کام خود بھی کرے جس کے کرنے کے لئے دوسروں سے کیے۔اگر دوسروں سے تو کسے کہ قوم یا مذہب یا جماعت کی خاطر اولاد کو قربان کرو مگر خود اولاد کو ایسے رستہ پر لگائے جس سے دنیا کا فائدہ حاصل ہوتا ہے تو اس کی بات کا کیا اثر ہو گا۔اسی طرح جو شخص دوسروں سے کہے کہ خدا سے محبت کرو مگر آپ خدا کی محبت میں نہیں بلکہ دنیا کی محبت میں چور ہو تو ایسے انسان کی بات کا کیا اثر ہو گا۔تو فرمایا هذه سبيلنی اس میں صرف یہ نہیں بتایا کہ میں کس طرف بلاتا ہوں بلکہ یہ بھی بتایا ہے کہ جس طرف میں بلاتا ہوں اس طرف خود بھی جا رہا ہوں۔پس اس جملہ میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کا نہ صرف دعوئی پیش کیا ہے بلکہ آپ کا عمل بھی پیش کر دیا ہے۔اور وہ رستہ یہ ہے اَدعُوا اِلَی اللہ اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔یہ ایک امتیازی نشان ہے رسول کریم اے کی فضیلت کا کہ آپ اللہ تعالی کی طرف بلاتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ باقی انبیا ء خدا کی طرف نہ بلاتے تھے بلاتے ہوں گے مگران کی تعلیمیں چونکہ منسوخ ہو گئی ہیں ان سے یہ معلوم نہیں ہو تا کہ وہ ادْعُوا الی اللہ کرتے تھے۔توریت پڑھنے سے انسان اس بات سے تو متاثر ہوتا ہے کہ اس میں ایک حد تک خدا کی طرف بلایا گیا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قومیت اور حقہ بندی کی طرف زیادہ توجہ دلائی گئی ہے اور یہ سکھایا گیا ہے کہ تم ساری دنیا سے معزز قوم ہو سب سے ممتاز ہو ساری خوبیاں تم میں جمع ہیں۔گویا یہودیوں کی جبقہ بندی پر سارا زور صرف کیا گیا ہے۔میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ یقیناً حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ تعلیم نہ ہوگی لیکن بہر حال ان کی طرف جو منسوب کی جاتی ہے وہ ایسی ہے اور اس کے سوا کوئی اور ایسی تعلیم نہیں ہے جو ان کی بتائی جاتی ہو۔پھر انجیل کو دیکھتے ہیں تو اس میں بھی اَدعُوا الی اللہ کی سپرٹ نظر نہیں آتی۔اس میں سارا زور اپنی قوم کو ابھارنے ان کی امیدیں قائم کرنے یا پھر اپنی ذات کی طرف توجہ دلانے پر ہے۔میں نہیں سمجھتا حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے یہی تعلیم دی ہو مگر بہر حال ہمارے