خطبات محمود (جلد 11) — Page 428
خطبات محمود ۴۲۸ سال ۶۱۹۲۸ بات یہ ہے بچے طور پر جو اسلام سے محبت رکھے گاوہ مخالفین اسلام کے ہر حملہ کو اپنے اوپر سمجھے گا۔ذرا غور تو کرو اگر کوئی شخص کسی کے باپ سے لڑ پڑے تو کیا وہ دوسرے بھائیوں کو کہے گا کہ یہ تمہارے باپ سے لڑ رہا ہے تم اس کا مقابلہ کر دیا ہر بیٹا یہ سمجھے گا کہ لڑنے والا مجھ پر حملہ کر رہا ہے۔جو بیٹا یہ سمجھے گا کہ سب سے زیادہ مجھ پر حملہ کیا گیا ہے وہی سب سے زیادہ باپ سے محبت کرنے والا ہو گا اور جو اس حملہ کو دوسرے کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کرے گا اس کا باپ سے کم تعلق سمجھا جائے گا۔اسی طرح ایسے وقت میں جب کہ رسول کریم ﷺ پر حملے ہو رہے ہیں جو آگے آتا ہے وہی رسول کریم ﷺ سے زیادہ محبت کرنے والا سمجھا جائے گا۔ہم حملے کرنے والوں کے مقابلہ میں سب سے آگے نکل کر کھڑے ہو گئے ہیں کیونکہ ہمارا حق ہے کہ ہم سب سے زیادہ وہ گولیاں کھا ئیں جو آپ پر چلائی جائیں۔دوسرے مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ آگے بڑھیں اور اس مبارک کام میں حصہ لیں اگر مسلمانوں نے توجہ نہ کی تو ان کی تباہی و بربادی میں کوئی شک نہیں رہ جائے گا۔میں اللہ تعالٰی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مسلمانوں کو تباہی سے بچائے۔اس وقت ہماری حالت اس سے بدتر ہے جو سپین میں مسلمانوں کی تھی۔خدا تعالٰی ہماری کمزوریاں دور کر دے ، ہماری بدیاں مٹا دے اور ہمیں عمل سے نہ کہ صرف زبان سے اس محبت کا ثبوت دینے کی توفیق عطا فرمائے جو ہمیں رسول کریم سے ہے۔تاریخ اسلام مصنفہ شاہ معین الدین ندوی حالات خلافت عباسیہ الفضل ۳۱ / جولائی ۱۹۲۸ء)