خطبات محمود (جلد 11) — Page 423
خطبات محمود ۴۲۳ سال ۴۱۹۲۸ زمانہ کبھی نہیں آسکتا کہ شک ہی شک رہ جائے۔مگر باوجود اس کے مسلمانوں میں بہت زیادہ لوگ ایسے ہیں جو بلاوجہ اور بلا ثبوت دوسروں کے متعلق شکوک پیدا کرتے رہتے اور الزام لگاتے رہتے ہیں۔اصل بات کو نہیں دیکھا جاتا حقیقت معلوم نہیں کی جاتی اور یو نہی الزام لگانے شروع کر دیے جاتے ہیں۔میں نے ۱۷ / جون کو رسول کریم ﷺ کی سیرت کے متعلق تمام ہندوستان میں لیکچر دینے کے تحریک کی۔ابھی جلے ہوئے نہیں تھے کہ یونہی کہہ دیا گیا کہ ان پر الزام لگائے گئے ہیں ان کو دور کرنے کے لئے یہ تحریک کی گئی ہے۔گویا میں ان لوگوں کے نزدیک پہلے دن مذہبی دنیا میں آیا تھا۔جب میں نے یہ تحریک کی۔اس سے قبل میں نے نہ تو کوئی اسلام کی خدمت کی تھی اور نہ دینی معاملات میں حصہ لیا تھا اس لئے یہ کہنے والوں نے سمجھ لیا کہ میں نے یہ تحریک الزام دور کرنے کے لئے کی ہے یا پھر کیا گیا ان جلسوں کی غرض چندہ جمع کرتا ہے۔چندہ کسی نے مانگا نہیں چندہ کے لئے کسی نے تحریک کی نہیں مگر الزام لگایا جاتا ہے کہ چندہ جمع کرنے کے لئے ۱۷ / جون کے جلسوں کی تحریک کی گئی ہے۔ایک یہ بھی الزام لگایا گیا کہ سائمن کمیشن کو کامیاب بنانے کے لئے یہ جلسے کرائے جائیں گے۔کوئی پوچھے سائمن کمیشن اور رسول کریم ﷺ کی سیرت کے متعلق جلسے کرانے میں جو ڑ کیا ہے؟ میں نے مختلی بالطبع ہو کر سوچا مجھے تو کوئی جوڑ نظر نہیں آیا۔مگر میں کہتا ہوں اگر کوئی جوڑ ہو بھی اور سائمن کمیشن سے تعاون کر کے دنیا سے رسول کریم اللہ کی تعریف کرائی جا سکے تو میں تو ہزار تعاون کرنے کے لئے تیار ہوں۔میں تو عدم تعادلی نہیں ہوں لیکن اگر عدم تعاونی بھی ہوتا اور یہ دیکھتا کہ رسول کریم ﷺ کی شان اور آپ کی تقدیس تعاون کرنے سے ہو سکتی ہے تو میں عدم تعاون پر ہزار لعنت بھیجتا اور بڑی خوشی سے تعاون کرتا۔یہ محض ظن سے کام لیا گیا اور نہایت مبارک تحریک کے متعلق شکوک پیدا کئے گئے۔میں کہتا ہوں ہم ہندوستانی انگریزوں سے اپنے حقوق مانگتے ہیں اس پر بعض انگریز خیال کر لیتے ہیں کہ ہندوستانی بغاوت کرنا چاہتے ہیں مگر ہم اس کا انکار کرتے اور کہتے ہیں یہ جھوٹا الزام ہے۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے حقوق ہمیں دیئے جائیں۔لیکن اگر دو سروں پر شک و شبہ کیا جا سکتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ انگریز بھی یہ نہ سمجھیں کہ ہندوستانی بغاوت کرنا چاہتے ہیں۔بات یہ ہے کہ دنیا کے سب کام اعتماد پر چلتے ہیں۔جب کسی کی بات کی بنیاد شک پر ہوگی تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ دوسروں سے کے تم مجھ پر کوئی شک نہ کرو۔مگر شک وشبہ سے بچنے اور خواہ مخواہ بد تلفنی