خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 424

به۴۲۴ سال ۶۱۹۲۸ نہ کرنے کی بہت کم پرواہ کی جاتی ہے۔یہاں کا ایک واقعہ دیکھ لیا جائے چند دن ہوئے میں ایک دعوت میں گیا۔وہ جرنیل صاحب جن کے اعزاز میں دعوت دی گئی تھی وہ چونکہ پہلے مجھ سے مل چکے تھے اس لئے خیال نہ تھا کہ وہ اپنی لیڈی کو تعارف کرانے کے لئے لائیں گے مگر وہ لے آئے۔جب انہوں نے انٹرو ڈیوس (Introduce) کرایا تو لیڈی صاحبہ نے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا۔چونکہ میں شرعی طور پر اس بات کا قائل ہوں کہ مردوں کو غیر محرم عورتوں سے مصافحہ نہ کرنا چاہئے اس لئے میں نے مصافحہ نہ کیا۔مگر یہ سن کر مجھے تعجب ہوا کہ بعض لوگوں نے تو یہ کہا کہ اس لیڈی کی بنک کی گئی ہے اور بعض نے کہا یہ محض لوگوں کو دکھانے کے لئے کیا گیا ہے ورنہ مصافحہ کر لیا کرتے ہیں۔تعجب یہ ہے کہ اس میں دکھانے والی کون سی بات تھی۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ بڑے آدمی سے اپنا تعلق ظاہر کرنے کے لئے مصافحہ کیا جائے مگر مصافحہ نہ کرنے میں تو کوئی بات ایسی نہیں جو دکھائی جائے۔اس طرح تو نا واقف کے لئے ناراضگی کا موقع پیدا ہو جاتا ہے۔جب میں ولایت گیا تو ایک مشہور انگریز آرنلڈ ہماری پرائیویٹ مجالس میں اپنی بیوی کو نہ لاتے تھے اور دوسری مجالس میں بھی جن میں میں ہوتا یا تو ساتھ نہ لاتے یا ہمارے قریب نہ لاتے کیونکہ وہ سمجھتے تھے مصافحہ نہ کرنے کی وجہ سے ان کی بیوی کی ہتک ہوگی۔تو دکھانے کے لئے مصافحہ کرنا چاہئے تھا نہ یہ کہ نہ کیا جاتا۔مگر اس بات کو بہت شہرت دی گئی۔ملتان کے کمشنر صاحب یہاں آئے ہوئے ہیں ان سے ایک دوست ملنے گئے تو انہوں نے بھی بتایا کہ یہ کہا جاتا ہے۔اس کے متعلق یہ تو کوئی کہہ سکتا ہے کہ غیر محرم عورتوں سے مصافحہ نہ کرنے کا خیال غلط ہے اور ہم اس بات کو سننے کے لئے تیار ہیں۔اگر کوئی مجھے یہ ثابت کر دے کہ قرآن اور حدیث کی رو سے مصافحہ کرنا جائز ہے تو مجھے بڑی خوشی ہوگی کیونکہ ولایت میں ہمارے مبلغوں کو مصافحہ نہ کرنے کی وجہ سے بہت مشکلات پیش آتی ہیں۔ابھی ایلین بی ہمارے لندن مشن میں آئے انہوں نے یہ نہ لکھا تھا کہ ان کے ساتھ ان کی بیوی بھی ہوگی۔اگر یہ معلوم ہو تا تو انہیں مصافحہ نہ کرنے کے متعلق اطلاع دے دی جاتی۔وہ اپنے عہدہ کے لحاظ سے بہت بڑا درجہ رکھتے ہیں۔مذہبی لحاظ سے بھی ان کی بڑی عزت کی جاتی ہے کیونکہ انہوں نے شام کو فتح کیا تھا جسے عیسائی مقدس ملک سمجھتے ہیں اور فوجی لحاظ سے وہ فیلڈ مارشل ہیں۔اتنے بڑے آدمی کی بیوی کے ساتھ ہمارے مبلغ نے مصافحہ نہ کیا کیونکہ ہمارا مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا یا کم از کم ہمارے نزدیک نہیں دیتا۔اور جب ہم اس مذہب کو مانتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ سچائی اور دیانت