خطبات محمود (جلد 11) — Page 422
خطبات محمود ۴۴۲ سال ۱۹۲۸م گذریں گی اور اگر رسی ہٹائی جائے تو بھی اس جگہ سے گذرنے والی بھیڑیں وہاں آکر کو دیں گی اس وجہ سے ہر ڈانٹکٹ کہا جاتا ہے۔یہ بات انسانوں میں سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ایک کرو جو چلتی ہے اس میں سب بہتے چلے جاتے ہیں کیونکہ انسان میں سب سے قومی جذبہ یہی ہے کہ وہ جو کچھ دیکھتا ہے اس کے پیچھے چل پڑتا ہے۔اس جذبہ کے ماتحت جب لوگ دیکھیں گے کہ اس قسم کے اعتراض بھی کئے جاتے ہیں تو اور لوگ بھی کریں گے۔پھر دوسرے پر تیسرے پر اعتراض کئے جائیں گے۔اور اس طرح اعتماد اور بھروسہ مٹ جائے گا۔دنیا کے تمام کاموں کی بنیاد اعتماد پر ہی ہے۔میں نے بڑے بڑے تاجروں کی کتابیں پڑھی ہیں وہ لکھتے ہیں تجارت کی کامیابی کا سارا انحصار اعتماد پر ہوتا ہے ایک بہت بڑا تاجر لکھتا ہے جس دن میں سمجھوں گا نوکر دیانتداری سے کام نہیں کرتے اسی دن تجارت بند کر دوں گا کیونکہ تجارت اعتماد کے بغیر نہیں چل سکتی۔اگر نوکروں پر میں اعتماد نہیں کروں گا تو وہ بھی مجھ پر اعتماد نہ کریں گے۔اور اس طرح تجارتی کاروبار تباہ ہونا شروع ہو جائے گا اس لئے جب میں دیکھوں گا کہ باہمی اعتماد نہیں رہا تو تجارت بند کر دوں گا تاکہ جو کچھ پاس ہے وہ تو تباہ ہونے سے بچ جائے۔غرض تمام کام اعتماد پر چلتے ہیں۔لوگ اپنے مقدمات میں وکیل کرتے ہیں۔اگر وکیل پر اعتماد نہ ہو بلکہ شک ہو کہ وہ دوسرے فریق سے مل جائے گا تو پھر کون وکیلوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ای طرح ڈاکٹر پر اعتماد کیا جاتا ہے یہ ضروری نہیں کہ ڈاکٹر کا ہر ایک نسخہ صحیح ہو مگر اس پر اعتماد کیا جاتا ہے اور اس کے سپرد جان کر دی جاتی ہے۔نائی حجامت کرتے ہیں ان پر اعتماد کر کے ان کے سامنے سر رکھ دیا جاتا ہے۔پھر دنیا میں خطر ناک سے خطرناک واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن پھر بھی ایک دوسرے پر اعتماد کیا جاتا ہے۔آج ہی میں نے اخبار میں پڑھا ہے کہ میکسیکو کا پریذیڈنٹ ایک دعوت میں گیا وہاں ایک شخص کھیل کے طور مختلف شکلیں بنا رہا تھا۔اس نے کہا اگر اجازت ہو تو پریذیڈنٹ صاحب کی شکل بناؤں۔اسے اجازت دی گئی۔اس نے کہا میں قریب سے شکل دیکھنا چاہتا ہوں۔اس طرح اس نے پاس آکر پے در پے پانچ گولیاں چلا دیں۔تو بے شک ایسی باتیں ہوتی رہتی ہیں لوگ دھوکا فریب کرتے ہیں۔اور باوجود اس کے کہ مسلمان اس زمانہ کو فصیح اعوج کہتے ہیں ہندو بھی اس کا نام کلجگ رکھتے ہیں عیسائی بھی کہتے ہیں اس زمانہ میں برائی بڑھی ہوئی ہے مگر پھر بھی اعتماد زیادہ کیا جاتا ہے اور شک تھوڑا۔اگر شک کرنے کا دروازہ کھول دیا جائے اور ہر بات میں شک وشبہ کیا جائے تو چند دن میں تباہی آجائے۔اور ایسا