خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 346

خطبات محمود سال ۱۹۲۸ء آگے آئے گا۔پس یہ قربانیاں ترقی کے لئے ضروری ہیں۔ایسے موقع پر صدمہ ہونا قدرتی بات ہے کیونکہ عزیزوں کی جدائی سے صدمہ ہوتا ہے مگر یہ قربانیاں ہماری ہمتوں کو توڑ نہیں سکتیں بلکہ ہمت بڑھانے کا موجب ہوتی ہیں۔اگر ایک فوت ہوتا ہے تو اس کی جگہ جانے کے لئے ہزار تیار ہوں گے۔مگر ہمارا ایک فرض مرنے والے کے متعلق ہے اسے ادا کرنا چاہئے۔وہ قلیل ترین فرض ہے جس سے اقل اور نہیں ہو سکتا کہ مرنے والے کے لئے دعا کریں۔اور دوسرا فرض یہ ہے کہ اس کے کام کو جاری رکھنے کی کوشش کریں تاکہ اس کی موت ایسے بیج کی طرح نہ ہو جو پتھر پر پھینکا گیا بلکہ اس پیج کی طرح ہو جو ایسی اعلیٰ درجہ کی زرخیز زمین میں ڈالا گیا جو بغیر پانی کے ہی کھیتی پیدا کرنے والی ہو۔ہم امید کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی ہمارے شہیدوں کی موت ضائع نہ کرے گا اور ان ممالک میں جہاں وہ فوت ہوئے ایسا سایہ دار درخت پیدا کرے گا جو سارے ملک کو اپنے سایہ میں پناہ دے گا اور لاکھوں انسان اس کے نیچے آرام کریں گے۔اور خدا کے ماموروں کا نام اس ملک میں بلند کرنے کا موجب ہو گا اور خدا کے نام کے اعلاء کا ذریعہ ہو گا۔الفضل ۲۷-۳۰ / مارچ ۱۹۲۸ء)