خطبات محمود (جلد 11) — Page 347
خطبات محمود ۳۴۷ ۴۷ R سال ۱۹۲۸ء جماعت احمدیہ کا حال اور مستقبل (فرموده ۶/ اپریل ۱۹۲۸ء) ۱ تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اس وقت جب کہ میں خطبہ کے واسطے کھڑا ہوا ہوں جیسا کہ میرا طریق ہے میں بغیر کسی مضمون کے سوچنے کے یہاں آیا تھا۔میری طبیعت قدرتی طور پر مضامین کو سوچ کر بیان کرنے سے متنفر ہے سوائے ان مضامین کے جن میں نوٹوں اور حوالوں کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ مجبوری ہوتی ہے جیسے سالانہ جلسہ کی تقریریں ہیں۔باقی عام طور پر میں بغیر نوٹوں کے بولتا ہوں اور اس لئے بولتا ہوں کہ ہمیں کیا معلوم ہے کہ اللہ تعالٰی کیا کہلوانا چاہتا ہے۔میں آج بھی اسی طرح آیا تھا بلکہ سورۃ فاتحہ کی تلاوت کرنے تک مجھے معلوم نہیں تھا کہ میں کیا بیان کروں گا اور کوئی مضمون میرے ذہن میں نہ تھا مگر اس کے بعد اس حالت کو دیکھ کر جو ہمارے بیٹھنے کی اس وقت ہے مضمون ذہن میں پیدا ہو گیا۔یہ میں نے ذکر اس لئے کیا ہے کہ میرا آج کا خطبہ اسی نظارہ کے متعلق ہے جو اس وقت ہمارے سامنے ہے۔میں نے بڑی قوموں کی بڑی حالتیں بھی دیکھی ہیں جیسے انگلستان کی پارلیمینٹ - سفر ولایت کے موقع پر میں نے ہاؤس آف لارڈز ( رؤسا کی مجلس) اور ہاؤس آف کامنز(نمائندوں کی مجلس) کو بھی دیکھا ہے ان کی شان و شوکت اور عظمت کو دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے اور سمجھتا ہے واقعی یہ لوگ دنیا پر حکومت کرنے کے اہل ہیں۔کس قدر عظیم الشان عمارات کتنا قیمتی سامان اور کیسا زبردست پروں کا انتظام ہے۔پارلیمنٹ کی لائبریری کو ہی دیکھ کر انسان حیران رہ