خطبات محمود (جلد 11) — Page 342
خطبات محمود ۳۴۲ سال ۶۱۹۲۸ مگر روحانی موت ایک متعدی مرض ہے اور اس کا لمبے عرصہ تک موجود رہنا زندوں کو بھی مردہ بنا دیتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے جلدی اس کا خاتمہ کر دیں اور ظاہر ہے کہ اس کے لئے بڑی بڑی قربانیوں کی ضرورت ہوگی۔ اس غرض کو لے کر وہ لوگ جن کو خدا تعالٰی نے توفیق دی دین کی اشاعت کے لئے مختلف ممالک میں جاتے ہیں اور ان میں سے ہر شخص جو اشاعت دین کے رستہ میں مرتا ہے یا مارا جاتا ہے خدا تعالی کے حضور اعلیٰ درجہ پاتا اور شہیدوں میں ہوتا ہے۔ ان لوگوں میں سے جن کو خدا تعالٰی نے خاص قربانیوں کی توفیق محض اپنے فضل سے عطام فرمائی ایک ہمارے شہزادہ عبد المجید صاحب تھے۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی صحابیوں میں سے تھے اور غالبا بیعت کرنے والوں میں ان کانواں نمبر ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ان کو بہت پرانا تعلق تھا۔ شہزادہ صاحب پہلے صوفی احمد جان صاحب مرحوم کے جو کہ حضرت خلیفہ اول کے خسر تھے مرید تھے۔ صوفی صاحب وہ بزرگ تھے جن کو خدا تعالٰی نے حضرت مسیح موعود کی شناخت کی توفیق آپ کے دعوئی سے بھی پہلے دے دی تھی۔ گوده حضرت مسیح موعود کے دعوی کرنے سے پہلے فوت ہو گئے تھے مگر انہوں نے اپنی زندگی میں آپ کو لکھا:۔ ہم مریضوں کی ہے انہیں یہ نظر تم مسیحا بنو خدا کے لئے پھر انہوں نے اپنی اولاد کو نصیحت کی تھی کہ میں تو مرتا ہوں میرے بعد یہ شخص عظیم الشان دعوی کرے گا تم انکار نہ کرنا۔ گویا صوفی صاحب ان بزرگوں میں سے تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق پیشگوئیاں کی ہیں۔ آپ اگر چہ حضرت مسیح موعود کے دعوئی سے پہلے فوت ہو گئے مگر انہوں نے اپنے خط میں حضرت مسیح موعود کے دعوی کے متعلق اس طرح اشارہ کر دیا دیا یم ہم مریضوں کی ہے تمہیں پہ نظر تم مسیحا ہنو ہے تمہیں یہ نظر خدا کے لئے غرض آپ بہت بڑے بزرگ تھے اور اپنے زمانہ کے نیک لوگوں میں سے تھے۔ ایک دفعہ مہاراجہ جموں نے ان کو دعوت دی کہ آپ جموں آکر میرے لئے دعا کریں مگر آپ نے انکار کر