خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 341

خطبات محمود اسم سو سال ۶۱۹۲۸ ہماری جماعت بھی ایک کام کے لئے کھڑی ہوئی ہے۔اسی کی طرف میں نے ابھی اشارہ کیا ہے کہ بعض قومیں اس لئے کھڑی ہوتی ہیں کہ دنیا کو بسائیں کوئی تو اس لئے کھڑا ہوتا ہے کہ عظیم الشان عمارت بنائے۔کوئی اس سے اوپر ترقی کرتا ہے اور اس لئے کھڑا ہوتا ہے کہ گاؤں بائے۔کوئی اس سے اوپر ترقی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ شہر بسائے۔کوئی اس سے بھی آگے بڑھتا ہے تو کہتا ہے ملک بسائے مگر ہماری جماعت اس لئے کھڑی ہوئی ہے کہ دنیا بسائے بے شک دنیا بسی ہوتی ہے۔دنیا میں لوگ آباد ہیں مگر قرآن کہتا ہے جن لوگوں کو خدا کی شناخت و معرفت نہیں وہ مردہ ہیں اور مردہ ایسے کہ قبروں میں پڑے ہوئے ہیں پس ان لوگوں کو جو دنیا میں بس رہے ہیں زندہ کہنا قرآن کی تردید کرنا ہے کیونکہ قرآن ان کو زندہ نہیں بلکہ مردہ قرار دیتا ہے جو قبروں میں پڑے ہوتے ہیں۔پس ہم یہی کہیں گے کہ دنیا ویران ہے وہ دنیا جس کے لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں ڈیڑھ ارب لوگ بستے ہیں قرآن کی اصطلاح کے لحاظ سے ویران پڑی ہے سوائے چند نفوس کے۔خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا تا کہ آپ نفخ صور کریں اور جس طرح کہا جاتا ہے کہ قیامت کے دن اسرائیل نفخ صور کرے گا اور تمام مُردے قبروں سے نکل کر باہر آجائیں گے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اٹھیں اور مردے قبروں سے اٹھ کر زندہ ہو جائیں۔گویا ہماری مثال اس آدم کی ہے جو آیا تو اس نے دنیا کو ویران پایا اور پھر اپنی نسلوں سے اس کو بھر دیا۔اب ہمارا بھی یہی کام ہے کہ ہم ویران دنیا کو بھر دیں اور اپنی نسلوں سے آباد کر دیں مگر وہ نسلیں نہیں جو بیٹوں سے پیدا ہوتی ہیں بلکہ وہ جو تبلیغ سے پیدا ہوتی ہیں جو کسی کے ذریعہ ہدایت پاتا ہے وہ منزلہ اس کے بیٹے کے ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ انبیاء کو اب قرار دیا گیا ہے کیونکہ ان کے ذریعہ لوگ ہدایت پاتے ہیں۔انبیاء سارے مسلمانوں کے باپ ہوتے ہیں۔آگے ہر مسلمان کچھ کچھ لوگوں کا باپ ہوتا ہے۔جس کے ذریعہ دس نے ہدایت پائی وہ دس کا باپ ہو گا۔جس کے ذریعہ ہزار نے ہدایت پائی وہ ہزار کا باپ ہو گا یہ ہدایت پانے والے خواہ عمر میں اس سے بڑے ہی ہوں مگر اس کے روحانی بیٹے ہوتے ہیں۔پس ہم نے دنیا کو اپنی روحانی نسل سے بھرنا ہے۔آدم نے چونکہ جسمانی نسل سے بھرنا تھا اس لئے اسے لمبے عرصہ کا کوئی خطرہ نہ تھا۔اس نے لاکھوں یا کروڑوں سالوں میں دنیا کو بھرا اس کی کوئی بحث نہیں۔مگر ہم روحانی اصلاح کے لئے کھڑے ہوئے ہیں اس لئے ہمیں جلدی دنیا کو روحانی نسل سے بھر دینا چاہئے کیونکہ جسمانی مُردے زندوں کو مُردے نہیں بنا سکتے