خطبات محمود (جلد 11) — Page 332
خطبات محمود سال ۶۱۹۲۸ رمضان کا آخری ہفتہ (فرموده ۱۶ مارچ ۱۹۲۸ء) تشهد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: یہ ہفتہ جو شروع ہونے والا ہے یعنی کل سے شروع ہو گا یہ رمضان کا آخری ہفتہ ہے اور اس کے بعد دن کو پھر وہی کھانا پینا ہو گا اور انسان ہو گا وہی تن آسانیاں ہونگی اور انسان ہو گا وہی غفلتیں ہوں گی اور انسان ہو گا سوائے اس کے جن کے اندر رمضان کوئی تبدیلی پیدا کر گیا اور خدا کے قرب کا احساس ان کے دلوں میں چھوڑ گیا۔ لیکن یاد رکھنا چاہئے یہ احساس بھی دعا کے ساتھ ہی پیدا ہو سکتا ہے۔ دعا میں ہی ایک ایسی چیز ہیں جو انسان کو کامیابی کی طرف لے جانے والی ہوتی ہیں۔ جس کثرت کے ساتھ اس ماہ میں دعاؤں کا موقع ملتا ہے دوسرے مہینوں میں نہیں ملتا۔ پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ خصوصیت کے ساتھ اس ماہ میں دعائیں کریں اور قرآن کریم کی تلاوت بھی ضرور کریں تا رمضان کی برکات سے پورا حصہ لے سکیں۔ قرآن کریم کا نزول رمضان میں شروع ہوا اور سال بھر میں جتنا قرآن رسول کریم ﷺ پر نازل ہوتا تھا وہ رمضان میں دوبارہ نازل کیا جاتا تھا حتی کہ آپ نے اپنی وفات کا اندازہ بھی اس امر سے لگایا کہ ہر رمضان میں قرآن ایک دفعہ نازل ہوتا تھا اور اب کے دو دفعہ نازل ہوا ہے بلکہ تو رمض ہے یہ تو رمضان کے مہینے میں رسو میں رسول کریم ا کے ذہن میں قرآن کو تازہ کرنے کے لئے جبرائیل دوبارہ نازل ہوتا تھا۔ اس سے یہ سنت بھی معلوم ہوتی ہے کہ قرآن کی حقیقی تلاوت میں ہے کہ ایک ماہ میں ایک دور کیا جائے ۔ یہ گویا قرآن کریم کی طبعی تلاوت ہے اسی لئے اس کے تمیں پارہ ہیں۔ اس کے یہ معنی تو نہیں کہ اس سے کم و بیش قرآن نہیں پڑھنا چاہئے۔ بسا اوقات ایک انسان کو ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس