خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 331

خطبات محمود ۳۳۱ سال ۶۱۹۲۸ چھوڑنے پڑے۔اس وقت میں نے سمجھا پہلا ہی اندازہ درست تھا۔لیکن بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جو جاری رہتی ہیں اور طبیعت کا جزو بن جاتی ہیں اس لئے وہ ایسی بیماریاں نہیں رہتیں کہ ان کی وجہ سے روزہ نہ رکھا جائے۔ایسی ہی بیماریاں مجھے بھی ہیں اس لئے میں نے پہلے جو اندازہ لگایا وہ بالکل صحیح تھا اور جب میں نے اسے تو ڑا تو بجائے اس کے کہ زیادہ روزے رکھ سکتا اور کم ہو گئے۔تو اپنی طبیعت کا انسان اندازہ لگا سکتا ہے۔مگر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ روزہ رکھنے سے کمزوری ہو جاتی ہے اس لئے روزہ نہیں رکھ سکتے یہ لغو بات ہے۔روزہ تو ہے ہی اس لئے کہ نفس کو توڑا جائے۔اور ایسا کون شخص ہو سکتا ہے جو روزے رکھ کر پہلوان بن جائے۔روزہ سے ہر ایک کو کمزوری ہوتی ہے۔پس کمزوری خواہ کتنی ہو یہ مرض نہیں ہاں اگر کوئی مرض ہو یا کسی مرض کے پیدا ہو جانے کا ڈر ہو تو روزہ چھوڑا جا سکتا ہے کمزوری کی وجہ سے چھوڑنا جائز نہیں۔مگر کئی لوگ بیماری اور کمزوری میں فرق نہیں کرتے۔وہ کہتے ہیں روزہ رکھنے سے بڑا ضعف ہو جاتا ہے اس لئے نہیں رکھتے۔اگر دل کا ضعف مراد ہے تو یہ بیماری ہے لیکن اگر جسم کی کمزوری مراد ہے تو یہ بیماری نہیں۔روزہ رکھنے سے ایسا ہونا ضروری ہے۔ہاں بڑھاپے کی حالت ہو تو اس وقت کی کمزوری خود بیماری ہوتی ہے۔مگر جو ان کی ایسی کمزوری عذر نہیں کیونکہ روزہ اس لئے نہیں رکھا جاتا کہ شربت کے گھونٹ انسان کے اندر جائیں اور وہ طاقتور بنے بلکہ اس لئے کہ اسے بھوک اور پیاس لگے اور اس کا لازمی نتیجہ کمزوری ہے۔الفضل ۱۶ مارچ ۱۹۲۸ء) بخاری کتاب الاطعمة باب التسمية على الطعام والاكل بالي