خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 333

خطبات محمود سلم تسلم تسلم سال ۱۹۲۸ء سے زیادہ پڑھے اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ کئی گھنٹوں میں ایک پارہ ختم کر سکتے ہیں۔ایسے لوگوں کے لئے ان کے دنیاوی کاموں کو مد نظر رکھتے ہوئے سخت مشکل ہوتا ہے کہ وہ روزانہ پارہ پارہ ختم کر سکیں۔بعض آدمیوں کو میں نے دیکھا ہے آدھ گھنٹہ تک پڑھنے کے بعد اگر ان سے پوچھا جائے کہ کتنا پڑھا ہے تو صرف دو تین رکوع بتائیں گے۔وہ اگر سیپارہ ختم کریں تو ان کے دوسرے کام کاج میں حرج ہو گا۔میری اپنی یہ حالت ہے کہ اگر تیزی کے ساتھ پڑھوں تو بارہ منٹ میں ایک سیپارہ ختم کر دیتا ہوں اور عام رفتار کے ساتھ بھی ہیں ، بائیں منٹ میں ختم کر سکتا ہوں۔غرض مختلف حالتیں ہوتی ہیں۔بعض لوگ بار بار قرآن کریم کو پڑھنے کی وجہ سے جلدی جلدی پڑھ سکتے ہیں۔یا جن کو عربی زبان میں مہارت ہوتی ہے یا حافظ ہوتے ہیں وہ آسانی اور تیزی کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں۔ایسے لوگ اگر زیادہ پڑھیں تو اچھی بات ہے مگر جبرائیل کا آنا اسی حکمت سے تھا کہ امت کے لئے تلاوت کا یہی اندازہ ہے کہ ایک سیپارہ روز قرآن کریم کی تلاوت کی جائے۔دعائیں بھی خصوصیت سے ان دنوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔پھر سنت سے صدقہ خیرات بھی ان دنوں میں کثرت سے کرنا ثابت ہے۔صحابہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ال ویسے تو ہمیشہ ہی سخاوت کرتے تھے مگر رمضان کے دنوں میں کثرت اور خصوصیت سے کرتے تھے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم اتنی سخاوت ضرور چاہئے کہ ایک آدمی کے کھانے کا ماہوار خرچ ہو جائے۔اور جسے اس کی توفیق نہ ہو اس کے لئے تسبیح ، تحمید اور تکبیر کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ذکر الہی کو بھی رسول کریم ﷺ نے صدقات کا قائم مقام ٹھرایا ہے۔ایک مرتبہ غرباء رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔یا رسول اللہ ا یہ بے انصافی ہے کہ امراء صدقہ کر کے ہم سے بڑھ جاتے ہیں۔نماز وہ بھی پڑھتے ہیں ہم بھی پڑھتے ہیں، روزے وہ بھی رکھتے ہیں ہم بھی رکھتے ہیں ، جہاد ہم بھی کرتے ہیں وہ بھی کرتے ہیں مگریہ زکوۃ ادا کرتے ہیں اور اس طرح زیادہ ثواب حاصل کر لیتے ہیں۔ہمارے پاس روپیہ نہیں کہ ہم اس پہلو سے بھی ان کی برابری کر سکیں دیکھو صحابہ نے کیسا اخلاص کا عجیب نمونہ پیش کیا ہے۔آج کل لوگ کہتے ہیں فلاں مالدار ہے اس لئے اس کی زیادہ خاطر کی جاتی ہے اور غریبوں کی طرف کم توجہ کی جاتی ہے مگر یہ نہیں سوچتے کہ آخر جو خود لوگوں سے اچھا سلوک کرے گا اس کے ساتھ بھی اچھا سلوک ہونا ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام