خطبات محمود (جلد 11) — Page 287
خطبات محمود ۲۸۷ ۳۸ سال ۶۱۹۲۸ مسنون خطبه جمعه فرموده ۲۰ جنوری ۱۹۲۸ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے درج ذیل مسنون خطبہ جمعہ پڑھا۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُ هِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُ، وَنُو مِنْ بِهِ وَنَتَوَكَّلُ عَلَيْهِ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَ وَ مِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَتَشَهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَنَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ عِبَادَ اللهِ رَحِمَكُمُ اللهُ إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَابْتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ اذْكُرُ وا اللهَ يَذْكُرُكُمْ وَادْعُوهُ يَسْتَجِبْ لَكُمْ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ۔ اس کے بعد فرمایا جمعہ کی نماز کا وہ خطبہ جو کہ دوسرے حصہ میں پڑھا جاتا ہے وہ بھی در حقیقت ایک حصہ ہی ہے خطبہ جمعہ کا لیکن اب وہ محض رسم کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ چونکہ وہ عربی میں ہے اور مسلمان عام طور پر عربی سے ناواقف ہو گئے ہیں اس لئے اس کے متعلق یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ٹونے اور جادو کی رسوم میں سے ایک رسم ہے۔ حالانکہ وہ رسم نہیں ہے بلکہ اپنے اندر بہت بڑی حقیقت رکھتا ہے اور اس کو سنت کے طور پر رسول کریم ال کا متواتر پڑھنا بتا ھنا بتاتا ہے کہ وہ جمعہ کے ساتھ خاص خصوصیت رکھتا ہے رکھتا ہے ورنہ ہر جمعہ میں اس کو دہرانے کی کیا ضرورت تھی۔ ایک حصہ خطبہ جمعہ کا تو ایسا ہے جو بدلتا رہتا ہے مگر ایک وہ ہے جو رسول کریم ﷺ کی سنت اور طریق ہے کہ اسے آپ بار بار دہراتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ضرور اس حصہ خطبہ کا جمعہ کے ساتھ خاص تعلق ہے۔ اور آج میں اس کی طرف توجہ دلاتا ہوں کیونکہ بوجہ عربی میں اس خطبہ کے ہونے کے شاید بہت سے لوگ اس کے مضامین اور