خطبات محمود (جلد 11) — Page 288
خطبات محمود ٢٨٨ سال ۱۹۲۸ء مطالب سے غافل ہوں۔اس حصہ خطبہ کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالی کی حمد کرتے ہیں، اس سے مدد مانگتے ہیں، اس سے اپنی غلطیوں پر چشم پوشی کی استدعا کرتے ہیں، اس کے وعدہ اس کی نصرت اس کی مدد اس کی استعانت اور اس کی بخشش پر یقین رکھتے ہیں۔اور پھر وہ یقین اتنا ترقی کر جاتا ہے کہ ہم اپنے کاموں کی حقیقت سے بالکل نا واقف ہو جاتے ہیں۔یا یہ کہو کہ حقیقی طور پر واقف ہو جاتے ہیں اور پورے طور پر سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارے کاموں کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔ہماری تمام تدابیر ایک مردہ چیز سے زیادہ نہیں بلکہ مردہ بھی نہ کہو وہ ہماری آزمائش کے لئے ہیں اور بالکل اسی طرح ہوتی ہیں جس طرح بعض سوار خصوصاً کشمیریوں کو میں نے دیکھا ہے کہ گھوڑے کو دوڑاتے ہوئے لاتیں مارتے جاتے ہیں۔وہ اس کا نام گھوڑے کے لئے کوڑا قرار دیتے ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ ان کو عادت ہو گئی ہے۔ہمارے ملک میں تو گھوڑے پر پڑھنے والے کسی کسی وقت جب گھوڑاست ہو لاتیں مارتے ہیں مگر کشمیر میں عادت ہو گئی ہے۔بچہ باپ کو دیکھتا چلا آ رہا ہے اور اس طرح یہ عادت کی پڑ گئی ہے کہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر بلا ضرورت لاتیں ہلاتے رہتے ہیں۔اب اگر کوئی یہ خیال کرے کہ گھوڑا نہیں دوڑتا بلکہ سوار اپنی ٹانگوں کے ذریعے دو ڈا رہا ہے تو یہ اس کی غلطی ہوگی۔اسی طرح مؤمن کا ایمان اتنی ترقی کر جاتا ہے کہ وہ سمجھ لیتا ہے میری کوششیں تو ایسی ہیں جیسے ایک کشمیری سوار لاتیں مارتا ہے میرے کاموں میں میری تدابیر کو کوئی دخل نہیں ہے یہ حقیقی تو کل ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مؤمن کام چھوڑ دیتا ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے تو پوری کوشش کرتا ہے مگر اپنی کوششوں کو کامیابی کا ذریعہ نہیں سمجھتا۔وہ یقین کرتا ہے کہ مجھے جو تدبیر کے لئے کہا گیا ہے یہ میرا امتحان ہے اور آزمائش ہے تاکہ دیکھا جائے کہ میں تدبیر کے ساتھ حقیقت کو تو نہیں بھول جاتا جیسے بچہ حقیقت کو بھول جاتا ہے۔بچہ کو ماں باپ یا کوئی اور رشتہ دار جب گردن پر اٹھا کر کہتے ہیں کہ تو اونچا ہو گیا تو بچہ چونکہ نادان ہوتا ہے اس لئے سمجھنے لگ جاتا ہے کہ فی الواقعہ وہ اونچا ہو گیا ہے۔اس کی شکل اس کی بات چیت اور اس کی مسرت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اونچا یقین کر رہا ہے۔بعینہ اسی طرح انسان کے اعمال کی حقیقت ہوتی ہے مگر وہ اعمال نہیں جو گرانے والے ہوتے ہیں۔دیکھو بچہ کو ماں باپ اونچا تو کرتے ہیں لیکن یہ نہیں کہ اس کا