خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 286

خطبات محمود سال ۱۹۲۸ء فائدہ اٹھانا چاہئے۔پس ہر محلہ میں امیر مقرر ہونے چاہئیں۔ان محلوں کے لوگ مشورہ کر کے مجھ سے اجازت لیں اور امیر کے ساتھ دو چار اور آدمی مقرر کریں جو محلہ کے معاملات اولاد کی تربیت اور دوسرے کاموں کی نگرانی کریں۔یہاں چونکہ احمدی جماعت کے طور پر رہتے ہیں اس لئے آپس میں تمدنی اور معاشرتی دباؤ بھی رکھتے ہیں اس لئے معاملات کی اصلاح کرنے میں ایک حد تک آسانی بھی ہے۔میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ بہت سی جماعتیں ابھی ایسی ہیں جنہوں نے تعلیم و تربیت اور تبلیغ کے سیکرٹری مقرر نہیں گئے۔چونکہ اس سے بہت نقصان پہنچ رہا ہے اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ تین ماہ کے اندر اندر اگر تمام جماعتیں اپنے تبلیغ اور تعلیم و تربیت کے سیکرٹری مقرر کر کے متعلقہ دفتر میں اطلاع نہ بھیجیں گی تو پھر ان کے عہدیدار یہاں سے مقرر کئے جائیں گے اور ان کا حق انتخاب چھین لیا جائے گا۔آج کل ہندو مسلمان گو ر نمنٹ سے لڑتے ہیں کہ وہ انہیں انتخاب کا حق نہیں دیتی مگر ہم اپنی جماعت کے لوگوں کو انتخاب کا حق دیتے ہیں اور وہ اسے استعمال نہیں کرتے۔پس جو انجمن اب بھی توجہ نہ کرے گی اس کے لئے یہاں سے آدمی مقرر کئے جائیں گے اور انتخاب کا حق چھین لیا جائے گا۔کسی کام پر کسی آدمی کو مقرر کرنے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔اسے مقرر ہونے پر شرم ہی آجاتی ہے اس لئے وہ کہتا ہے کچھ تو کام دکھاؤ، اور اگر سارا سال وہ کوئی کام نہ کرے تو مجلس شوری سے ایک مہینہ قبل تو ضرور کام کرتا ہے تاکہ مجلس میں کچھ کام پیش کر سکے۔اب دیکھو بارہ مہینے بالکل کام نہ کرنا اچھا ہے یا ایک مہینہ کام کرنا اور گیارہ مہینے نہ کرنا اچھا ہے پھر مجلس شورٹی سے واپس جانے کے بعد ایک مہینہ تک کام کیا جاتا ہے کیونکہ تازہ تازہ جوش ہوتا ہے۔اسی طرح جلسہ سالانہ سے ایک مہینہ قبل اور ایک مہینہ بعد بھی وہ لوگ کام کرتے ہیں جو عام طور پر ستی دکھاتے ہیں۔اگر ایسے لوگوں کی تربیت ہوتی رہے تو وہ زیادہ کام کرنے لگ جائیں گے۔پس ہر جماعت میں کام کرنے کے ذمہ دار لوگ ہونے چاہئیں۔اس کے لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ تین ماہ کے اندر اندر ہر ایک جماعت اپنا تبلیغ اور تعلیم و تربیت کا سیکرٹری مقرر کر کے اطلاع دے ورنہ یہاں سے مقرر کئے جائیں گے اور ان کا انتخاب کا حق چھین لیا جائے گا جس پر شکوہ و شکایت کا انہیں کوئی حق نہ ہو گا۔الفضل ۲۰/ جنوری ۱۹۲۸ء)