خطبات محمود (جلد 11) — Page 285
خطبات محمود ۲۸۵ سال ۱۹۲۸ء دن مل کر نماز پڑھ سکتے ہیں اور ہفتہ میں کم از کم ایک دفعہ اکٹھے ہو کر اور آپس میں مل کر پاکیزگی حاصل کر سکتے ہیں۔یہی حال درس کا ہے اگر روزانہ اس کے لئے لوگ جمع نہ ہو سکیں تو ہفتہ میں ایک بار ہی جمع ہو جایا کریں اور ایک بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے درس کے لئے اکٹھے ہو جایا کریں اس طرح ہفتہ میں دو بار جمع ہو سکیں گے۔پس میں ہر جگہ کے سیکرٹریوں، امیروں اور پریذیڈنٹوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جنوری میں ہی مجھے اطلاع دیں کہ انہوں نے قرآن کریم کے درس اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے درس کے لئے کیا انتظام کیا ہے۔چاہئیے کہ جہاں جہاں امیر مقرر ہوں وہ خود درس دیں اور اگر کوئی نہ دے سکے تو مجھ سے اجازت لے کر کسی اور کو مقرر کیا جائے تا ایسا نہ ہو کہ امراء سستی اور غفلت سے کام لے کر اپنا کام دوسروں پر ڈال دیں۔ہر شخص کو اپنا فرض آپ ادا کرنا چاہئے۔مجبوری کی حالت جدا ہوتی ہے مگر خود مجبوری بنالینا درست نہیں ہے۔پس امراء اور پریذیڈ نٹوں کو چاہئے کہ وہ جلد سے جلد اس بارے میں مجھے اطلاع دیں کہ انہوں نے کام شروع کر دیا ہے یا نہیں اور اگر خود یہ کام نہیں کر سکتے تو لکھیں کہ ان وجوہات سے وہ یہ کام نہیں کر سکتے۔اس کے بعد اگر میں مناسب سمجھوں گا تو کوئی دوسرا آدمی درس دینے کے لئے مقرر کر دوں گا۔یہاں قادیان میں درس اور خطبہ جمعہ تو ہوتا ہے مگر میرے خیال میں ایک نقص ہے اور وہ یہ کہ یہاں محلہ وار کمیٹیاں نہیں ہیں۔یہاں لوکل انجمن قائم ہے مگروہ نام کی ہی انجمن ہے کبھی کبھی ہوتی ہے۔حالانکہ یہاں ایسی انجمن کی بہت زیادہ ضرورت ہے کیونکہ دوسری جگہوں کی نسبت یہاں زیادہ لوگ جمع ہیں۔پھر باہر کی نسبت یہاں بہت امن ہے اور امن میں شرارت اور فتنہ پیدا ہوتا ہے۔یہاں ہر محلہ میں انجمن بنی چاہئے جس کا فرض ہو کہ اپنے محلہ کے لوگوں کی تربیت کرے۔جو لوگ معاملات میں خرابی پیدا کریں ان کی اصلاح کرے۔جو نمازوں اور دوسرے دینی کاموں میں سستی کریں ان کی نگرانی کرے۔اب یہاں با قاعدہ محلے بن گئے ہیں۔کمیٹی کے لحاظ سے جو میونسپل ایریا مقرر کیا گیا ہے اس کو محلہ سمجھ کر اس میں علیحدہ انجمن بنائی جائے جس کا ایک امیر ہو اور دو تین اس کے ساتھ سیکرٹری ہوں جو مختلف معاملات کی نگرانی کریں۔اگر یہاں درس سننے اور جمعہ پڑھنے کا موقع مل جاتا ہے تو اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔کئی اور لوگ بھی درس دیتے ہیں۔حافظ روشن علی صاحب قرآن اور حدیث پڑھاتے ہیں ان سے