خطبات محمود (جلد 11) — Page 284
خطبات محمود ۲۸۴ سال ۶۱۹۲۸ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب مشاہدات پر مبنی اور مشاہدات پر حاوی ہیں۔ایک عام واعظ تو یہ کہتا ہے کہ قرآن کریم میں اور حادیث میں یہ لکھا ہے مگر خدا تعالٰی کے انبیاء یہ نہیں کہتے کہ فلاں جگہ یہ لکھا ہے بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل پر یہ لکھا ہے۔ہماری زبان پر یہ لکھا ہے۔ان کا وعظ ان کی سوانح عمری ہوتا ہے اس لئے ان کی کتب پڑھنے سے واعظ والا اثر انسان پر نہیں پڑتا بلکہ مشاہدہ والا اثر پڑتا ہے۔جس طرح دعا نماز کا مغز ہے اسی طرح انبیاء کی کتب میں نصیحت کا مغز ہوتا ہے جو خدا تعالی اور اس کے انبیاء کے کلام میں پایا جاتا ہے۔جلسہ کے موقع پر میں نے بیرونی جماعتوں کے امراء اور پریذیڈنٹوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ جنوری کے اندر اندر قرآن کریم کا درس اپنے ہاں دینے کا انتظام کر کے مجھے اطلاع دیں مگر اس وقت تک صرف تین چار جگہ سے اطلاع آئی ہے حالانکہ انجمنوں کی تعداد تین چار سو کے درمیان ہے۔اور جہاں ابھی تک باقاعدہ انجمنیں نہیں وہاں بھی جماعت کی تربیت اور اس کی اصلاح کے لئے انجمنیں بنانی چاہئیں۔اس وقت کئی انجمنیں مالی لحاظ سے بنائی گئی ہیں جن میں دس ہیں گاؤں شامل ہوتے ہیں۔بے شک مالی لحاظ سے یہ انجمن رہے لیکن جماعت کی تربیت کے لحاظ سے ہر گاؤں کی الگ انجمن ہونی چاہئے کیونکہ درس کے لئے کئی گاؤں کے لوگ روزانہ ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے اور نہ دوسرے اصلاحی امور کے متعلق حکمرانی ہو سکتی ہے۔پس ہر گاؤں میں جہاں احمدی ہوں انجمن ہونی چاہیئے میرے خیال میں سو (۱۰۰) کے قریب ایسی انجمنیں ہیں جو کئی کئی گاؤں پر مشتمل ہیں ان کو تربیت کے لحاظ سے اپنا نیا انتظام قائم کرنا چاہئے اور ہر جگہ اپنی انجمن بنائی جائے۔اس انجمن کو مالی معاملات سے تعلق نہ ہو۔مالی صورت پہلے کی طرح ہی رہے مگر درس وتدریس اور جماعت کی تربیت کے لئے ہر جگہ کا اپنا علیحدہ انتظام ہو کیونکہ یہ کام کئی گاؤں کا اکٹھا نہیں ہو سکتا۔جہاں دو آدمی بھی احمدی ہوں وہاں تربیت کے متعلق انتظام کی ضرورت ہے۔اگر جمعہ دو آدمیوں کا ہو سکتا ہے اور ہمارا یہی مذہب ہے کہ ہو سکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ قرآن کریم کا درس اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا درس نہ ہو سکے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے جہاں دو یا دو سے زیادہ مسلمان ہوں وہ جماعت ہیں۔اور جہاں دو مسلمان ہوں وہاں جمعہ کی نماز ہو سکتی ہے۔پس جہاں دو احمدی ہوں وہاں ان کی انجمن بھی ضرور ہونی چاہئے جو اصلاحی کام کرے روزانہ نماز اور جمعہ کی نماز میں یہی فرق ہے کہ جو لوگ فاصلہ پر رہنے کی وجہ سے روزانہ نمازوں میں شامل نہ ہو سکیں وہ جمعہ کے