خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 261

خطبات محمود سال 1927ء مہینہ ڈیڑھ مہینہ پہلے سینکڑوں لوگ اس میں لگ جاتے ہیں تو پھر سوچ لو وہ عظیم الشان اجتماع جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر ہوتا ہے۔اور جس میں مشرق و مغرب کے لوگوں نے جمع ہوتا ہے اس اجتماع کی تربیت اور اس کے نظام کے قیام کے لئے کتنا انتظام کرنا چاہئے۔مگر جب جماعت حال کے اجتماع کا پورے طور پر انتظام نہیں کر سکتی تو مستقبل جو بہت بڑا ہے اس کے انتظام کے وقت کیا کرے گی۔دس بارہ پندرہ ہزار کا اجتماع کوئی غیر معمولی اجتماع نہیں۔مگر اس کے لئے بھی اگر تیاری نہ کریں تو ناکامی ہو۔پھر کیا لاکھوں کروڑوں کے لئے نہیں بلکہ اربوں کے اجتماع کے لئے جو خدا تعالیٰ کی پیشگوئیوں کے ماتحت جماعت میں داخل ہونے والے ہیں کتنی بڑی تیاری کتنی بڑی مشق اور کتنے بڑے سامان کی ضرورت ہے۔مگر حالت یہ ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ ابھی حال کی الجھنوں سے ہی نہیں نکلتے تو اس وقت کی ضرورتوں سے کس طرح عہدہ بر آہوں گے۔اس وقت بھی پوری اور مکمل تیاری نہیں کر سکتے کجا آئندہ کی تیاری۔میں اپنے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے سبق حاصل کریں۔اور اپنے وجودوں سے عبرت حاصل کریں۔اللہ تعالٰی بہت کچھ کرنے والا ہے۔مگر ہمارے لئے ضروری ہے کہ اپنے ایمان سے کام لیں اور ایمان تازہ کر کے پیشتر اس آنے والے نظارہ کو دیکھ لیں تا ایسا نہ ہو کہ غفلت میں پڑے رہیں۔حضرت مسیح نے فرمایا ہے دولھا آنے والا ہے۔مگروہ اچانک آئے گا تا دیکھے کون سوتے ہیں اور کون جاگتے ہیں۔خدا تعالی کی طرف سے فتوحات اچانک آجاتی ہیں۔اور جب لوگ نا امید ہو جاتے ہیں اس وقت فتوحات کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ایسی حالت میں بہت لوگ غفلت کی وجہ سے مارے جاتے ہیں۔اور وہی وقت جو فتح اور کامرانی کا ہوتا ہے۔بتوں کے لئے بے ایمانی کا ہوتا ہے۔دیکھو ایک شہر کے لوگ اگر بادشاہ کے آنے پر اس کا استقبال نہیں کرتے تو کس طرح اس کے غضب کے مورد ہوتے ہیں۔پس اگر دنیا کے بادشاہ کا استقبال نہ کرنے والے غضب کے مورد بنتے ہیں۔تو وہ نشان جن کو خدا تعالٰی نے اپنا آنا قرار دیا ہے۔ان سے غفلت کرنے والے کس قدر غضب کے مستحق ہوں گے۔خدا تعالیٰ نے نشان کے آنے کو اپنا و دوورو آنا قرار دیا ہے۔چنانچہ فرمایا ہے۔فسوف يَأْتِي اللَّهُ بِقَومٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ، دوسری جگہ آتا ہے۔فاتى الله بنیانہم کیس جس طرح خدا کے آنے پر تیاری نہ کرنے والا غضب کا مستحق ہوتا ہے۔اسی طرح اس کے بشارتی نشان کے آنے پر تیار نہ ہونے والا غضب کا مستحق ہوتا ہے۔کیونکہ خدا تعالٰی نشان کے ذریعہ ہی آتا ہے۔خواہ وہ نشان ترقی کا ہو یا تباہی کا کیونکہ وہ غیر مادی ہے۔پس