خطبات محمود (جلد 11) — Page 260
خطبات محمود ۲۶۰ سال 1927ء سے چھوت چھات کی تعلیم پائی جاتی ہے اور جو دوسروں کے چھونے سے اپنے آپ کو بھرشٹ اور ناپاک قرار دیتے ہیں۔اس مذہب کے ماننے والوں نے مسلمانوں کے ساتھ کھانا پینا ہی قابل نخرنہ سمجھا بلکہ اپنی بیٹیاں پیش کیں۔آج ان کی اولاد کو کوئی پوچھتا تک نہیں۔اور نہایت ذلیل اور حقیر سمجھا جاتا ہے پس اس وقت ہر مسلمان عبرت کا مقام ہے اگر وہ اپنے آپ سے عبرت حاصل کرنا چاہے تو حاصل کر سکتا ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمان اب بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔وہ اب بھی ایک خیالی بہشت میں بستے ہیں۔اور ایک وہمی بہشت میں دن رات گزارتے ہیں جس کا کوئی وجود دنیا میں نہیں پایا جاتا۔وہ باو جود تمام قسم کی کمزوریوں میں مبتلا ہونے کے اپنی طاقتوں کے خواب دیکھتے ہیں اور تمام ذلتوں میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنے آپ کو سب سے زیادہ معزز سمجھتے ہیں۔اس خیالی بہشت کے ساتھ ان میں عمل کی طاقت بھی پائی جاتی اور وہ کوشش بھی کرتے تو میں ان کے خیال کو بابرکت سمجھتا۔مگر اس کے ساتھ ان میں حد درجہ کی سستی اور کاہلی پائی جاتی ہے جو ایک عذاب ہے۔مسلمانوں میں سے جن لوگوں کے دلوں میں یہ یقین ہے کہ وہ معزز ہیں اور ان میں سب طاقتیں پائی جاتی ہیں۔وہ لکھتے اور سستی اور کاہلی کے مجتمے ہیں۔اور جو کام کرنے والے ہیں وہ اس حد تک مایوس ہو چکے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں اب مسلمان کسی صورت بھی تباہی سے نہیں بچ سکتے گویا ایک قسم کے لوگ اگر ایک جہنم میں مبتلا ہیں تو دوسری قسم کے لوگ دوسرے جہنم میں۔اس ابتلا اور مصیبت کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالٰی نے اس لئے مبعوث فرمایا کہ مسلمانوں کو اس جنم سے نکالیں۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔پہلا آدم آیا تو اس کے وقت بنی نوع کو جنت سے نکلنا پڑا۔مگر مجھے خدا نے آدم بنا کر اس لئے بھیجا ہے کہ دوبارہ بنی نوع کو جنت میں داخل کروں۔اسی طرح آپ نے فرمایا ہے جب پہلا مسیح آیا تو ا سے صلیب پر چڑھایا گیا مگر دوسرا مسیح اس لئے آیا ہے کہ صلیب کو توڑے۔پس اس وقت اسلام کی زندگی اور اسلام کے جاہ و جلال کا مدار اگر کسی چیز پر ہے تو اس پورے پر جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے گاڑا۔اب ہمارے سامنے دو تین دن کے بعد ایک اجتماع کی صورت پیدا ہونے والی ہے۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قائم کردہ نظام کے ماتحت جلسہ ہونے والا ہے اس کے لئے تیاریاں ہو رہی ہیں۔لیکن یہ جلسہ بھی ہمارے لئے بہت کچھ عبرت کا سامان اپنے ساتھ رکھتا ہے۔اور وہ اس طرح کہ اگر چند ہزار لوگوں کے جمع ہونے کے لئے اتنی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے کہ