خطبات محمود (جلد 11) — Page 194
خطبات محمود ۱۹۴ سال 1927ء طرح صلح کے لئے تیار ہو سکتے ہیں۔پس میرے نزدیک صلح تو ضرور ہونی چاہئے مگر اس سے پہلے کچھ شرائط بھی ضروری ہیں۔کم از کم ہماری جماعت ان شرائط کی پابندی کر الینا ضروری سمجھتی ہے۔اور میں امید کرتا ہوں دوسرے مسلمان بھی اس بات کو نظر انداز نہیں کریں گے کہ آریوں کا صرف منہ سے کہہ دینا کافی نہیں اس کے لئے کچھ شرائط کا ہونا ضروری ہے۔میرے نزدیک سب سے پہلی شرط جو ضروری ہے وہ یہ ہے کہ دونوں قوموں کی طرف سے اس بات کا اقرار ہونا چاہئے کہ کوئی کتاب ایسی نہ لکھی جائے گی جس میں دوسرے مذاہب کے بزرگوں کے متعلق دریدہ دہنی سے کام لیا جائے یا ایسے اعتراض کئے جائیں جن میں ان کی تخفیف و تذلیل ہو نہ کہ کسی مسئلہ کا حل۔اگر کوئی شخص ایسی کتاب لکھے گا تو اس کی قوم ذمہ دار ہوگی کہ اس کتاب کو جلا دے اور لکھنے والے کا بائیکاٹ کر دے۔اور لوگ اس سے تعلق نہ رکھیں نہ بیاہ شادیوں میں بلا ئیں۔نہ موت فوت میں شامل کریں۔نہ رشتہ لیں نہ دیں۔میں اپنی جماعت کی طرف سے اس قسم کا معاہدہ کرنے کے لئے تیار ہوں کہ اگر کوئی احمدی ایسی کتاب لکھے تو ہم اس کا بالکل بائیکاٹ کر دیں گے اور میں امید رکھتا ہوں کہ رسول کریم اور دوسرے بزرگوں کی عزت کی حفاظت کے لئے مسلمانوں کا کوئی فرقہ بھی ایسا نہ ہو گا جو اس معاہدہ کے لئے تیار نہ ہو۔اور جب قوم کی قوم ایسا معاہدہ کرنے پھر کوئی جرات نہیں کر سکتا کہ ایسی کتاب لکھے۔پس صرف اس قسم کے الفاظ کہ مادر ہند کو اتحاد کی ضرورت ہے۔ہمیں آپس میں رواداری سے رہنا چاہئے۔ایک دوسرے سے اچھا سلوک کرنا چاہئے۔ہمارے لئے کافی نہیں بلکہ ہمارے پاس کوئی ایسی بات ہوئی چاہئے کہ جو فتنہ اٹھائے اسے مناسب سزادی جاسکے۔اگر ہندو اس بات کا اقرار کریں کہ ایسے شخص کا بائیکاٹ کر دیا جائے گا۔اور جو اس سے کسی قسم کا تعلق رکھے گا یا ہمدردی کرے گا۔اس کا بھی بائیکاٹ کر دیا جائیگا۔تو اس صورت میں بیشک صلح کی ایک شرط پوری ہو جاتی ہے۔مگر اس کے علاوہ اور بھی شرطیں ہیں۔مثلا یہ کہ ہندوؤں نے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے چھوت چھات سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔وہ جاہل لوگوں سے کہتے ہیں دیکھو ہم مسلمانوں سے چھوت چھات کرتے ہیں کیونکہ ہم ان سے معزز ہیں۔اور مسلمان ہماری چیزوں سے پر ہیز نہیں کرتے اس لئے کہ وہ اونی ہیں۔سات سو سال سے ہندو مسلمانوں سے یہ سلوک کرتے آئے ہیں جس کی مسلمانوں نے پرواہ نہ کی۔مگر اب چونکہ اس بات کو مذہبی رنگ میں استعمال کیا گیا ہے اس لئے اب ہم اس سلوک پر