خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 193

+1927 ١٩٣ خطبات محمود سے شائع کی گئیں جن میں ہندوؤں کے مذہب پر حملے کئے گئے۔مگر یہ بھی غلط ہے ان میں ہندوؤں پر حملے نہیں کئے گئے۔بلکہ ہندوؤں کی اپنی روایتیں نقل کی گئی ہیں۔اور آریوں کا کوئی حق نہیں کہ ان کو اعتراض کے طور پر پیش کریں۔کیونکہ جن مسائل پر ان کتابوں میں اعتراض کئے گئے ہیں ان پر بہت سخت الفاظ میں پنڈت دیانند صاحب نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔پھر وہ کتابیں اسلام پر ناپاک حملے کرنے کی وجہ کس طرح ہو سکتی ہیں۔ان مسائل پر خود پنڈت دیا نند نے بہت سخت الفاظ میں اعتراض کئے ہیں۔جوش اس بات پر آتا ہے جسے انسان سچا سمجھتا ہو اور دوسرا اس پر گندے اعتراض کرے۔مگر وہ بات جسے کوئی شخص سچا ہی نہ سمجھے بلکہ اس کا رشی اس پر سخت اعتراض کرے۔اس پر اگر کسی مسلمان نے اعتراض کیا تو اسے اسلام پر حملہ کرنے کی وجہ کس طرح قرار دیا یہ جا سکتا ہے۔غرض ناپاک اعتراضوں اور گندی گالیوں کی ابتدا آریوں کی طرف سے ہوئی جو مسلسل جاری رہی۔یہاں تک کہ ۱۹۰۷ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لاہور کی آریہ پر تھی ندہی سمجھانے مرزا یعقوب بیگ صاحب سے خط لکھایا کہ آپ بھی اس سبھا کے جلسے میں پڑھے جانے کے لئے مضمون لکھیں۔اس پر آپ نے لکھوایا کہ ایسا نہ ہو آریہ اس جلسے میں اسلام اور بانی اسلام کو گالیاں دیں اس کے متعلق تسلی ہو جانی چاہئے۔اس پر ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب نے لکھا کہ آریوں نے اطمینان دلایا ہے کہ جلسے میں قطعاً کسی پر حملہ نہ کیا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور اپنا مضمون لکھ کر بھیج دیا جس میں کوئی حملہ نہ تھا بلکہ اس میں لکھا تھا کہ ہم ہندو بزرگوں کی عزت کرتے ہیں۔مگر باوجو د وعدہ کرنے کے جسے کوئی شریف انسان تو ڑا نہیں کرتا اور دو بار خود زبان دینے کے جسے کوئی شریف انسان واپس نہیں لیا کرتا آریوں نے سینکڑوں آدمیوں کے سامنے رسول کریم ﷺ کے متعلق (نعوذ باللہ) ڈاکو اور فاسق کے ناپاک الفاظ استعمال کئے۔یہ وہ شرافت تھی جو آریوں نے اس مضمون کے مقابلے میں اختیار کی جو حضرت صاحب نے ان کے جلسے میں پڑھنے کے لئے بھیجا تھا اور جس میں ان کے بزرگوں کی تعظیم و تکریم کا ذکر تھا غرض ہم شروع سے دیکھتے چلے آرہے ہیں کہ اس قوم کی بد زبانی کی عادت چلی آتی ہے اور اس پر وہ اپنی نجات کا انحصار سمجھتی ہے۔پس جس قوم کی ساری ہسٹری گالیوں سے بھری ہوئی ہو جس نے سب مذاہب کے بزرگوں کو گالیاں دی ہوں جس نے اپنی قوم کے بزرگوں کو بھی گالیاں دینے سے نہ چھوڑا ہو۔اس کے صرف منہ سے کہہ دینے سے کہ وہ صلح کرتی ہے ہم کس