خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 157

1927ء ۱۵۷ خطبات محمود گزرے تو وہ نہیں کہ صرف اتنا۔ صرف اتنا کہے ۔ چودھری صاحب ووٹ دینے جا رہے ہو۔ یہ سن کے سن کر جو مسلمان بھی ووٹ دینے گیا۔ اس نے سکھ کے حق میں ہی ووٹ دیا ۔ کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ اگر سکھ کو ووٹ نہ دیا تو کل ہی تالش ہو جائے گی۔ اب دیکھو اس بنیا کو کسی لٹھ کی ضرورت نہ تھی۔ کسی ظاہری جبر کی ضرورت نہ تھی۔ وہ ہنس کر چودھری صاحب کو اپنی طرف متوجہ کرتا۔ اور اس ہننے سے ہی چودھری صاحب پر بجلی گر پڑتی۔ اور اسلام کا سارا جوش کافور ہو جاتا ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتا تھا یہ بجلی سے بھی زیادہ خطر ناک ہے جو مجھے ہی نہیں بلکہ میرے گھر بار کو بھی جلا کر راکھ کر دے گی۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے لئے کہاں آزادی ہے۔ اور وہ کسی بات پر اکڑ رہے ہیں۔ اس وقت مسلمانوں کی تمدنی حالت اس درجہ گری ہوئی ہے کہ انصاف پسند قوم مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر قوم ہو ۔ تو وہ بھی ان کی حالت میں اتنے مرثیے کہے کہ زمین و کمان رو پڑیں۔ مگر جب کسی قوم پر مصیبت آتی ہے تو دوسروں کے دلوں سے اس کے متعلق رحم بھی مٹ جاتا ہے۔ اور جب خدا تعالیٰ کی طرف سے گرفت ہوتی ہے تو دوسروں کے دل سخت ہو جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی حالت پر کسی کے دل میں درد نہیں پیدا ہوتا۔ اور کسی کو رحم نہیں آتا۔ اس وقت مسلمانوں کے لئے ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ کہ اپنے نفسوں میں تبدیلی پیدا کریں۔ اس وقت تک انہوں نے کئی رنگوں میں خدا تعالیٰ کا مقابلہ کیا۔ سو د لیتے رہے اسلام کی ہتک ہوتے دیکھی مگر کچھ نہ کیا انہوں نے ہندوؤں سے اور ان ہندوؤں سے چیزیں خریدیں جو انہیں کتے کی طرح دھتکارتے ہیں۔ وہ کتے کی طرح مار کھا کر ان کے آگے گرتے رہے ہیں۔ اگر مسلمان بھی ہندوؤں کی چیزیں نہ خریدتے ۔ جس طرح ہندو مسلمانوں کی نہ خریدتے ہیں اور غیرت دکھاتے تو کم از کم دنیا یہ تو کہتی کہ مسلمانوں میں بھی غیرت ہے۔ اپنی قومیت کا احساس ہے۔ مگر جب دنیا نے دیکھا کہ مسلمان اپنی عزت آپ برباد کر رہے ہیں۔ پھر اور کون ان کی عزت کر سکتا تھا یہ چھوت چھات کی ذلت کا نتیجہ ہے کہ مسلمان تمدنی طور پر بالکل تباہ و برباد ہوتے ہیں۔ اور ان میں تقوی وطہارت بھی نہیں رہی۔ اگر یہ ہوتی تو اسلام کے لئے غیرت بھی ہوتی۔ اب اللہ تعالٰی نے ایسے سامان پیدا کئے ہیں کہ جن سے مسلمانوں کی آنکھیں کھل جائیں۔ اب بھی اگر مسلمان اپنے دماغ سے کام لیں تو خدا تعالیٰ کی مدد ان کے شامل حال ہوگی ۔ اور ان کی مصیبتیں دور ہو جائیں گی۔ خدا تعالیٰ اپنے بندوں سے کبھی ایسا ناراض نہیں ہو تاکہ ان سے عذاب نہ ٹلائے بشرطیکہ وہ اپنی اصلاح کرلیں۔ رسول کریم ا نے فرمایا ہے ۔ خدا تعالی اس