خطبات محمود (جلد 11) — Page 156
خطبات محمود ۱۵۶ سال 1927ء زبان چلانے سے بجائے طاقت کے اسلام کو ضعف پہنچا۔تو خدا تعالٰی یہ نہ کہے گا کہ تم بڑے باغیرت ہو۔تم نے اسلام کی خوب خدمت کی۔بلکہ یہ کہے گا کہ تم بہت بڑے مجرم ہو۔تم نے اسلام کو نقصان پہنچایا۔اسی طرح اگر کوئی خدا تعالٰی سے یہ کہے کہ میں نے اسلام کے دشمنوں کو دیکھ کر بہت غصہ کا منہ بنایا۔بڑی تیوری چڑھائی۔مگر اس سے اسلام کو نقصان پہنچا۔تو خدا تعالٰی اس کی اس حرکت کو پسند نہ کرے گا۔بلکہ سخت ناراض ہو گا۔پس اس زمانہ میں اسلام کی مدد کے لئے لڑائی جھگڑے کی ضرورت نہیں۔گالیوں کے مقابلہ میں گالیاں دینے اور برابھلا کہنے کی نہیں۔منہ بنانے اور غصہ ہونے کی نہیں۔بلکہ سب سے بڑی ضرورت سر سے کام لینے کی ہے۔جسے خدا نے عرش کی جگہ قائم کیا ہے۔ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اس سے کام لے۔اور اپنے ہاتھوں اپنے کانوں ، اپنی زبان اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھے۔یعنی مسلمان اپنے دماغ سے کام لے کر وہ تدابیر نکالیں جو دشمن کو کمزور اور مسلمانوں کو طاقت در کرنے والی ہوں۔ورنہ مسلمانوں کے لڑنے ، گالیاں دینے اور غصہ ہونے سے کیا بن سکتا ہے۔مسلمان آج پورے طور پر ہندوؤں کے غلام بن رہے ہیں۔اور ان کو قطعا جرأت نہیں رہی کہ ہندوؤں کے سامنے کھڑے بھی ہو سکیں۔یہاں ہم نے جب یہ طریق جاری کیا کہ ہندوؤں سے خرید و فروخت نہ کی جائے۔اور آس پاس کے مسلمانوں سے کہا کہ تم بھی اس پر عمل کرو۔تو وہ کہنے لگے ہم کسی طرح کر سکتے ہیں۔ہم تو ان ہندوؤں کے سود کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔اسی طرح ہر جگہ کے مسلمانوں کی گردنیں بنیوں اور لالوں کے قبضہ میں آئی ہوئی ہیں۔یوں جب مسلمان زمیندار بیٹھتے ہیں تو حقارت سے ہندوؤں کو کراڑ اور کھتری کہتے ہیں۔مگر انہی کراڑوں کے ہاتھ ان کی گردنوں پر ہوتے ہیں۔اور جب عدالت میں جاتے ہیں تو شکست کھا کر آتے ہیں۔لالہ ایک ہزار دے کر دو ہزار وصول کر چکا ہوتا ہے لیکن پھر بھی اسی کا قرضہ نکلتا ہے۔اس لئے مجسٹریٹ اس کے حق میں فیصلہ دیتا ہے۔پس یوں تو اکڑنے والے مسلمان سمجھتے ہیں۔ہمارے جیسا بہادر کوئی نہیں ہمارا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے لیکن دراصل وہ ہندوؤں کے غلام ہیں کیونکہ وہ سود کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور اس وجہ سے وہ کوئی ایسا کام نہیں کر سکتے جس سے اسلام کو فائدہ پہنچے۔پچھلے دنوں ایک دوست نے سنایا ایک ڈسٹرکٹ بورڈ کا انتخاب تھا۔اس کی ایک نشست کے لئے ایک سکھ اور ایک مسلمان امیدوار تھے۔مسلمانوں نے بڑے جوش سے فیصلہ کیا کہ تمام مسلمان مسلمان کو ووٹ دیں۔لیکن سکھ کی تائید میں ایک بنیا تھا جو لوگوں کو سود پر روپیہ دیتا تھا۔جب لوگ ووٹ دینے کے لئے گئے تو وہاں دیکھا کہ وہ بنیا بیوں کا ڈھیر لگائے بیٹھا ہے۔جب اسکے پاس سے کوئی مسلمان ووٹر