خطبات محمود (جلد 11) — Page 114
سال 1927ء ۱۱۴ خطبات محمود میں رہنے کے قابل نہ ہو گی ۔ تمام دنیا مجموعی طاقت سے اس کا مقابلہ کرے گی۔ اور اگر آج نہیں تو کل وہ قوم ضرور مٹ جائے گی۔ لیکن جو قوم اس لئے کھڑی ہوتی ہے کہ دوسروں کے لئے اپنی جان قربان کرے۔ اور دوسروں کی بجائے وہ ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ اور اس کی عزت کی جاتی ہے۔ اس وقت میں اپنی جماعت کو خصوصاً اور دوسرے مسلمانوں کو عموماً یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ دوسروں میں زندگی قائم رکھنے کا ذریعہ بنیں ۔ اور یاد رکھیں خدا تعالیٰ نے یہ قانون رکھا ہے کہ جو دوسروں کی جان لینے کے لئے کھڑا ہوتا ہے وہ مٹا دیا جاتا ہے۔ اور دیر تک نہیں رہ سکتا۔ لیکن جو دوسروں کو نفع پہنچاتا ہے۔ اس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الأَرْضِ (الرعد : ۱۸) وہ چیز جو نفع پہنچاتی ہے اسے دنیا میں ہم قائم رکھتے ہیں۔ اور جو نہیں پہنچاتی اسے نہیں رکھتے۔ پس دنیا میں دوسروں کو نفع پہنچانے والی قومیں ہی قائم رکھی جاتی ہیں۔ اس لئے اس جھگڑے و فساد کے زمانہ میں ہمارا فرض ہے کہ ایسے کام کریں جن سے زندگی کی رو پیدا ہو ۔ مثلاً لوگ روحانی طور پر مردہ ہیں۔ اس کے لئے مسلمانوں میں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ان میں قرآن کریم کی رسول کریم اس کی اور خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہو ۔ جب ان کے قلوب میں یہ محبت پیدا ہو جائے گی تو ان کے دلوں کو ایسی تقویت حاصل ہو جائے گی کہ کوئی مشکل ان کے سامنے نہ ٹھر سکے گی اور روحانیت حاصل کرنے کا رستہ بھی کھل جائے گا اور وہ ہدایت سے محروم نہ رہیں گے کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت : ۷۰) جو لوگ سچے دل سے مجھے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کو میں اپنے تک پہنچنے کا صحیح رستہ دکھا دیتا ہوں۔ پس ضرورت کی ہے کہ خدا تعالیٰ سے کچی محبت رسول کریم اسے سچی محبت اور قرآن کریم سے سچی محبت پیدا ہو جائے۔ جس کی علامت یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم کے مطابق عمل کریں۔ اگر مسلمان کہلانے والے نمازیں نہیں پڑھتے، زکوۃ نہیں دیتے، اخلاق اعلیٰ نہیں دکھاتے، مخلوق خدا سے ہمدردی نہیں کرتے ، بنی نوع انسان کی بھلائی اور بہتری کے لئے زندگی بسر نہیں کرتے تو وہ مسلمان کیوں کر کہلا سکتے ہیں۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ اپنے نفوس میں بھی خدا تعالیٰ کی رسول کریم ال اور قرآن کریم کی محبت پیدا کریں۔ اور جو ان سے تعلق رکھتے ہیں ان کے دلوں میں محبت کے نقش جمائیں ۔ تب نئی زندگی حاصل ہو گی۔ صحابہ کی زندگی دیکھو کیسی خوبصورت تھی۔ ایک بہت چھوٹی سی جماعت تھی۔ لیکن ان میں سے اگر ایک بھی کہیں چلا جاتا تو لوگ پکار اٹھتے ان لوگوں کی اصلی زندگی ہے۔ اگر مسلمان اب بھی ایسی