خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 115

خطبات محمود 110۔سال 1927ء زندگی حاصل کرلیں تو کوئی ان کو تباہ نہیں کر سکتا۔صحابہ نے جب شام کو فتح کیا تو عیسائیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔وہ کئی لاکھ تھے اور مسلمان صرف ۲۰ - ۲۵ ہزار تھے۔اس وقت مصلحت یہی سمجھی گئی کہ کچھ علاقہ خالی کر دیا جائے۔اس وقت عیسائی وفد بن کر مسلمانوں کے پاس آئے اور آکر کہا اگر اخراجات کی وجہ سے آپ لوگ اس علاقہ کو خالی کرنا چاہتے ہیں تو اخراجات ہم برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں۔آپ لوگ یہاں سے نہ جائیں گویا وہ اپنے ہم مذہب حکمرانوں کے خلاف مسلمانوں سے درخواست کرتے تھے کہ ہم پر تم ہی حکمرانی کرد - کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کے ماتحت رہ کر ہمیں جس قدر آرام و آسائش حاصل ہو سکتی ہے۔وہ اپنے ہم مذہب حکمرانوں کے ماتحت رہنے میں نہیں مل سکتی۔اگر اس وقت بھی مسلمان قرآن کریم کے ماتحت اپنی زندگی بسر کریں تو دنیا ان کی زندگی کو نہایت قیمتی زندگی سمجھے گی۔اور ان کی زندگی کو اپنے لئے باعث نجات قرار دے گی۔پھر اگر مسلمان اللہ تعالٰی کے منشاء اور حکم کے ماتحت غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دیں تو یقینا خدا تعالیٰ ان کی زندگی کی حفاظت کرے گا۔کیونکہ جو لوگ دنیا کے لئے نجات کا باعث ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ ان کو تباہ نہیں کیا کرتا۔جب محدود عقل اور اخلاق کے لوگ نیک انسانوں کا تباہ ہونا گوارا نہیں کرتے۔تو خدا ایسے لوگوں کی تباہی کیوں پسند کرے گا۔اگر واقعہ میں مسلمان ادھر اپنے نفس کی اصلاح کرلیں اور ادھر دنیا کی اصلاح کے لئے اٹھ کھڑے ہوں تو یقینا خد اتعالیٰ انہیں ہر قسم کی تباہی سے بچالے گا۔پس اس جوش سے جو اس وقت مسلمانوں میں پیدا ہو رہا ہے اس طرح فائدہ اٹھانا چاہئے کہ مسلمان اپنے اندر تقویٰ پیدا کریں اپنی اخلاقی اور روحانی اصلاح کریں۔لیکن اگر ان کی یہ حالت ہو کہ وہ نمازیں نہ پڑھتے ہوں۔زکوۃ نہ دیتے ہوں۔روزے نہ رکھتے ہوں۔بد اخلاقیاں ان میں پائی جائیں۔مسلمانوں سے سود الیناوہ پسند نہ کریں۔بلکہ دوسروں سے لیں۔آپس میں ہمدردی اور محبت نہ ہو تو پھر اپنے ہی انہیں پسند نہ کریں گے۔دوسرے کب پسند کریں گے کہ دنیا میں باقی رہیں۔پس اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔اپنے اخلاق و عادات میں تبدیلی پیدا کرد تا اپنوں میں بھی معزز سمجھے جاؤ اور دوسروں میں بھی معزز قرار پاؤ۔اپنے بھی تم سے پیار کریں۔اور دوسرے بھی تم سے محبت کریں۔اس وقت میں خصوصیت سے دوستوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اخلاق عادات اپنی زندگی اپنے معاملات اسلام کے مطابق بنا ئیں۔پھر دیکھیں دشمن بھی ان پر کس طرح گردیدہ ہوتا ہے۔دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ساری عمر مخالفت کی گئی لیکن جب آپ فوت ہوئے تو