خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 113

خطبات محمود ١١٣ سال 1927ء لئے ہوتی ہے وہ اچھی ہوتی ہے۔دیکھو ماں کی قربانی کو خدا تعالیٰ نے ایسا شاندار قرار دیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔کیوں اس لئے کہ ہر ماں اتنی بڑی قربانی کرتی ہے کہ ایک یا زیادہ جانیں پیدا کرتی ہے۔اسی طرح ڈاکٹر کی عزت کیوں کی جاتی ہے۔اس لئے کہ وہ دوسروں کی جان بچاتا ہے غرض ہر ایک جو قربانی کرتا ہے۔اس کے متعلق اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ جان لینے والی قربانی معزز نہیں سمجھی جاتی لیکن جان بچانے والی قربانی معزز سمجھی جاتی ہے۔اس گھر کو مد نظر رکھ کر موجودہ فتنہ کو دیکھو۔اور سوچو کہ اس وقت تمہارا کیا فرض ہے۔جب کوئی قوم اپنی حالت کو گرا ہوا سمجھتی ہے۔مصیبت میں مبتلا ہوتی ہے۔ابتلاء میں گھری ہوتی ہے تو اس وقت اس کے افراد کے دل میں جوش پیدا ہوتا ہے۔اور غم و غصہ کی کیفیت پیدا ہو کر انسان کچھ کرنا چاہتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ اسے کیا کرنا چاہئے۔دنیا میں ہزاروں قومیں ایسی گذری ہیں جو کچھ کرنے سے ہلاک ہو گئی ہیں۔رسول کریم کے ذریعہ جب عرب میں تغیر پیدا ہوا اور تبدیلی رونما ہوئی۔تو اس وقت مکہ کے لوگوں نے سمجھا ہمارے پرانے عقائد میں خلل پڑنے لگا ہے ہمیں کچھ کرنا چاہئے۔اس پر وہ کچھ کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔اور یہی ان کی ہلاکت کا باعث بن گیا۔اگر اس وقت وہ لوگ کچھ کرنے کے لئے نہ کھڑے ہوتے تو ابو جہل ابو جہل نہ بنتا۔عتبہ عقبہ نہ بنتا۔شیبه شیبہ نہ بنتا۔پس کسی قوم کو یہی مد نظر نہیں ہونا چاہئے کہ اسے کچھ کرنا چاہئے۔بلکہ یہ بھی مد نظر ہونا چاہئے کہ کیا کرنا چاہئے اور کیا کر کے دکھانا چاہئے۔ایسے جوش کے وقت میں اگر کوئی قوم اس لئے کھڑی ہوتی ہے کہ دوسروں کی جان لے تو وہ یقینا اپنے آپ کو بد نام کر لیتی اور اپنے مدعا میں ناکام رہ جاتی ہے۔کیونکہ جان لینے والا کبھی معزز نہیں سمجھا جاتا۔سوائے اس کے جو اس لئے جان لیتا ہے کہ دوسری جانیں بچائے۔مثلاً ایک سپاہی ہے وہ دشمن کے سپاہیوں کی اس لئے جان لیتا ہے کہ اپنے اہل ملک کی جان بچائے۔اگر وہ دشمن کو نہ مارے گا تو دشمن اس کے ہم وطنوں کو قتل کر دے گا۔اسی طرح ایک مجسٹریٹ کسی مجرم کو پھانسی کی سزا دیتا ہے تو وہ بھی قابل عزت ہوتا ہے۔کیونکہ وہ اس لئے ایک جان کو مارتا ہے کہ اور لوگوں کی جانیں بچائے۔ان حالات میں جان لینے والا در اصل جان لینے والا نہیں ہو تا بلکہ دوسری جانوں کو بچانے والا ہوتا ہے۔جب کوئی قوم خطرات کے وقت کچھ کرنے کے لئے کھڑی ہو۔اس کے متعلق یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ دوسروں کی جائیں لیتی ہے یا ان کی جانیں بچاتی ہے۔اگر وہ دوسروں کی جانیں لے گی تو قطعا دنیا