خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 524

خطبات محمود ۵۲۴ سال ۶۱۹۲۸ مجھے سے وہ اعلان مخفی نہیں جو اخباروں میں شائع ہوئے ہیں اور جنہیں شاید کار کن پیش کریں مگر جس رنگ میں یہ تحریک کی جانی چاہئے تھی اس رنگ میں نہیں پیش کی جاتی۔اس تحریک کو تو نومبر کے شروع میں جاری کر دینا چاہئے تھا تا بعد میں تکالیف نہ ہوں۔میں ان کارکنوں کو بھی اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو خاص جلسہ کے متعلق کام کرتے ہیں کہ اب ہمارا جلسہ خدا کے فضل سے اس حد تک ترقی کر چکا ہے کہ اس کے اخراجات کے لئے ایک بڑی رقم کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے اخراجات آہستہ آہستہ ترقی کر کے اٹھارہ ہزار پر پہنچ گئے ہیں۔اور اب جب کہ ریل آگئی ہے تعجب نہیں کہ وہ یکدم بہت زیادہ ہو جائیں اس لئے ایسے کارکنوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس احتیاط سے کام کریں کہ خرچ کم سے کم ہو کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ یا تو دوسرے کام بند کرنے پڑیں گے اور یا پھر جلسہ میں آنے والوں کے لئے روکیں ڈالنی پڑیں گی۔کیونکہ ہم کسی تحریک کو اسی وقت تک چلا سکتے ہیں جب تک اس کے اخراجات کے برداشت کرنے کی طاقت ہم میں موجود ہو اور جب اخراجات برداشت کی طاقت سے بڑھ جائیں تو اس کام میں روکیں ڈالنی پڑتی ہیں۔اور ہمیشہ جب کسی کام میں روکیں پیدا کی جائیں تو اس کی طرف سے لوگوں میں غفلت پیدا ہو جاتی ہے۔مدرسہ احمدیہ میں پہلے بہت زیادہ طالب علم آنے لگے تھے۔میں نے منتظمین سے کہا کہ اس میں کچھ روک ڈالا دو تا اس کثرت سے نہ آئیں اور روک ڈالنے کا اب یہ نتیجہ ہوا ہے کہ طلباء کی تعداد میں بہت زیادہ کمی ہو گئی ہے۔جب روک ڈالی جائے تو طبائع میں جوش کم ہو جاتا ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جتنی کمی کی ضرورت ہوتی ہے اس سے بہت زیادہ کمی ہو جاتی ہے۔لیکن یہ جلسہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالٰی کے حکم سے ایسے رنگ میں قائم کیا ہے کہ جماعت کے لئے خدا تعالی کی بہت سی برکات اس سے وابستہ ہیں اس لئے شرعاً اس میں روک پیدا کرنا بھی درست نہیں۔دوسری صورت یہ ہے کہ دوسرے کام بند کرنے پڑیں گے لیکن یہاں کوئی بھی کام معمولی نہیں جسے بند کیا جا سکے۔لنگر خانہ ، تبلیغ، تعلیم و تربیت و غیرہ سب کام ضروری ہیں۔پس بہترین ذریعہ یہی ہے کہ اخراجات ایسے رنگ میں کئے جائیں کہ خرچ کم ہو اور آدمی زیادہ آئیں۔سوائے اقتصاد اور کفایت شعاری کے اور کوئی ذریعہ نہیں۔کارکنوں کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔جب آدمی کوشش کرے تو کوئی نہ کوئی رستہ ضرور نکال لیتا ہے۔مثلاً میں نے انگلستان میں دیکھا ہے وہاں یہ قاعدہ ہے کہ جب کوئی