خطبات محمود (جلد 11) — Page 525
ساا خطبات محمود ۵۲۵ سال ۱۹۲۸ء آدمی کسی ہوٹل یا ریسٹورنٹ یا کسی اور ایسی جگہ جائے جہاں خادم ہوں تو اسے ان خادموں کو کچھ نہ کچھ دینا پڑتا ہے اور یہ رواج وہاں اتنا اہم ہو گیا ہے کہ بعض ہوٹلوں نے اسے اپنے قوانین میں داخل کر لیا ہے اور بل کے ساتھ نوکر کے لئے بھی کچھ نہ کچھ وصول کر لیتے ہیں۔مثلاً بل دیتے وقت اگر دس آنہ کا کھانا ہو گا تو ایک آنہ ساتھ نوکر کا جمع کر کے گیارہ آنہ وصول کریں گے۔اور اس کا یہاں تک اثر ہے کہ بعض ہوٹل اپنے نوکروں کو تنخواہ نہیں دیتے بلکہ الٹا ان سے کچھ وصول کرتے ہیں۔تو یہ رواج ہے اور اس کے لئے وہاں لوگ لازما نوکروں کو تنخواہیں کم دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں ان کو دوسری آمدنی ہو جائے گی۔جس طرح گورنمنٹ ڈاکٹروں کو تنخواہیں کم دیتی ہے کہ ان کو فیس سے بھی آمدنی ہو جاتی ہے۔اسی طرح ولایت کے ہوٹلوں کے نوکروں کو بھی تنخواہیں کم ملتی ہیں۔لیکن وہاں ایک کمپنی ہے جس کے A۔B۔C نام سے تقریباً ہر جگہ ہوٹل موجود ہیں۔لندن کے شہر میں تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر ان کے ریسٹورنٹ پائے جاتے ہیں۔ان کا یہ قانون ہے کہ کسی نوکر کو کچھ نہ دیا جائے اور ظاہر ہے کہ اس وجہ سے انہیں لازماً نوکروں کو بہت زیادہ تنخواہیں دینی پڑتی ہوں گی۔مگر وہ صرف ۶ آنے میں پوری چائے مہیا کرتے ہیں۔یعنی پیسٹری وغیرہ سمیت اور یہ ایسا کم نرخ ہے کہ یہاں ہندوستان میں بھی اتنی سستی چائے نہیں مل سکتی۔میں اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب ایک دفعہ جان رہے تھے میں نے کہا آؤ تجربہ کریں ہم چلے گئے اور اچھی طرح دونوں نے چائے پی مگر بل انہوں نے صرف ۱۲ آنے کا دیا حالانکہ میرا اندازہ اس سے بہت زیادہ کا تھا اور دوسری جگہوں پر بھی اس سے بہت زیادہ چارج کیا جاتا ہے۔دکان آدمی ہمیشہ فائدہ کے لئے کرتا ہے مگر جس چائے کے لئے دوسرے ڈیڑھ دو روپیہ لیتے ہیں وہ صرف ۶ آنے میں دے دیتے ہیں۔اور یہ ضروری ہے کہ انہیں ۶ آنے میں بھی فائدہ ہوتا ہو گا ورنہ ان کو کیا پڑی ہے کہ نقصان کے لئے اتنی دکانیں جاری کریں۔ضروری ہے کہ غور کر کے انہوں نے کوئی ایسی تدبیر نکالی ہو جس سے نوکروں کو بھی زیادہ تنخواہیں دے کر ا آنے میں بھی نفع حاصل کر سکیں یہ ہمارے کارکنوں کے لئے سبق ہے۔انسان جب غور کرے تو وہ ضرور کوئی نہ کوئی رستہ نکال لیتا ہے۔کارکن کہہ دیتے ہیں اب کے دو ہزار آدمی زیادہ آئے تھے اس لئے خرچ دو ہزار زیادہ ہو گیا حالانکہ ان کے کام کی خوبی یہ ہے کہ آدمی دو ہزار زیادہ آئیں مگروہ خرچ دو ہزار کم کر کے دکھائیں۔انہیں دیکھنا چاہئے کہ ہماری جماعت غریب جماعت ہے اس لئے خرچ کو جس قدر بھی ہو سکے محدود کرنا