خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 456

خطبات محمود م سال ۱۹۲۸ء ہو کر اس کے لئے دعائیں کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنا فضل کرے اور پانی اتارے۔دعاؤں کے لئے خطوط لکھتے ہیں لیکن جب خدا تعالی روحانی پانی اتارتا ہے تو لوگ اسے قبول نہیں کرتے اور اس کا انکار کر دیتے ہیں۔کیا حقیقت ہے جسمانی پانی کی اس روحانی پانی کے مقابلہ میں جو خدا تعالٰی کے طرف سے آتا ہے۔خدا کے کلام سے بارش کے چھینٹوں کو نسبت ہی کیا ہے۔لیکن جب بارش کا چھینٹا نہیں پڑتا تو دعائیں کرتے ہیں کہ اللی بارش اتار لیکن جب خدا تعالی کا کلام آجاتا ہے تو کہتے ہیں ہم اسے نہیں مانتے۔ایک ہفتہ نہیں ، دو ہفتہ نہیں ، سال نہیں ، دو سال نہیں، تین صدیاں گذر جاتی ہیں جسے فیح اعوج یعنی روحانی قحط کا زمانہ کہا جاتا ہے اس کے بعد وہ بادل آتا ہے جس سے روحانی دنیا کی سرسبزی اور شادابی وابستہ ہے لیکن بجائے اس کے کہ دنیا اس پر خوش ہوتی اور خدا تعالیٰ کا شکر کرتی اس بارش کے ہونے پر الٹی ناراض ہو کر اپنے کھیتوں سے اس کے پانی کو باہر نکالتی ہے۔کیا یہ اس بات کی علامت نہیں کہ ان کے دل مر چکے ہیں اور خدا کی محبت ان میں سے نکل چکی ہے کیونکہ وہ کلام الہی کے آنے پر بھی اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اس کے لئے دعائیں مانگنا تو الگ رہا اسے رو کرنے کی کوشش کرتے اور اس کے متعلق نہیں اور تمسخر کرتے ہیں۔انہیں اپنی کثرت اور زیادتی پر گھمنڈ ہے اور یہ نہیں جانتے کہ کثرت پر گھمنڈ کرنے والے قلیل بن جایا کرتے ہیں۔خدا تعالٰی تھوڑوں کو بہت اور بہتوں کو تھوڑے بنا دیتا ہے۔وہ نہیں جانتے کہ خدا کے فضل کا انکار کتنا بڑا عذاب بن جاتا ہے۔اگر ایک ملک میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے غلہ نہ پیدا ہو تو دوسرے ملک سے آجاتا ہے لیکن روحانی بارش کے لئے تو اور کوئی جگہ نہیں۔ایک دفعہ ہندوستان میں قحط پڑا تو امریکہ سے غلہ لے آئے مگر روحانی قحط کے وقت کہاں سے کوئی روحانیت لا سکتا ہے۔روحانی غذا آسمان پر ہی پیدا ہوتی اور وہاں سے ہی نازل ہوتی ہے۔اگر وہاں سے نہ اترے تو کسی جگہ سے نہیں مل سکتی۔پس یہ رونے کا مقام ہے کہ لوگوں کے دلوں پر اتنا زنگ لگ گیا ہے کہ وہ اپنے فائدہ کی چیز سے بھاگتے اور ناراض ہوتے ہیں۔اس کا ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ کہ ہماری جماعت کے لوگ جنہوں نے خدا تعالٰی کے روحانی پانی سے فائدہ اٹھایا ہے وہ دعائیں کریں کہ خدا تعالٰی ہمارے دوسرے بھائیوں کے دل بھی کھول دے اور وہ اس ابر کرم کے نیچے آجا ئیں جو خدا تعالٰی نے روحانیت کو زندہ کرنے کے لئے نازل کیا ہے۔اس کے ساتھ ہی ہماری جماعت کے لوگوں کا یہ بھی کام ہے کہ تبلیغ بھی